ڈیوڈ ہیڈلی ’وعدہ معاف‘ گواہ بنے پر معاف

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2013 میں ہیڈلی کو پاکستانی گروپ لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام سمیت 12 دیگر الزامات میں سزا دی گئی ہے

بھارتی شہر ممبئی میں سنہ 2008 کے حملوں میں ملوث امریکی شہری کو بھارتی عدالت کی جانب سے گواہ بننے کے وعدے کے بعد معاف کردیا گیا ہے۔

اجمل قصاب کو پھانسی، بھارت میں خوشیاں

ممبئی حملوں کی چوتھی برسی

’نہیں بھول سکتا ممبئی کا حملہ‘

خیال رہے کہ وہ پہلے ہی امریکہ میں 35 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

ڈیوڈ ہیڈلی ممبئی کی عدالت میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش ہوئے تھے جہاں انھوں نے حملوں کی منصوبہ بندی اور اُن پر عملدرآمد سے متعلق مکمل تفصیلات دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

52 سالہ ہیڈلی نے سزائے موت اور بھارت کو حوالگی سے بچنے کے لیے نہ صرف امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کیا تھا بلکہ اپنے جرم کا اقرار بھی کیا تھا۔

سنہ 2008 میں ممبئی میں مسلح افراد کے حملوں میں 160 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ممبئی عدالت کی جانب سے ہیڈلی کو بتایا گیا ہے کہ ان کی معافی مشروط ہے اور عدالت ان سے امید کرتی ہے کہ وہ حملوں سے متعلق تمام معلومات فراہم کریں گے۔

ڈیوڈ ہیڈلی عدالت کے سامنے امریکہ میں ایک نامعلوم مقام سے بذریعہ ویڈیو لنک پیش ہوئے تھے۔

بھارتی وکیل استغاثہ عُجوال نِکم نے ممبئی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’وہ سرکاری گواہ بن گئے ہیں۔ عدلت نے انھیں معافی دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ان کی گواہی سے حملوں سے متعلق مزید معلومات ملیں گی۔ وہ اگلے سال آٹھ فروری کو اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ممبئی حملوں میں ریلوے سٹیشن، لگژری ہوٹلوں، اور یہودی سینٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے ہیڈلی کے امریکی وکیل جان تِھیس کا کہنا تھا کہ انھیں ’امید نہیں ہے کہ ہیڈلی کے پہلے بیان کے مقابلے میں کوئی بہت مختلف بات سامنے آئے گی اور ان کا یہ بیان بھی شکاگو میں دیے جانے والے بیان جیسا ہی ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بھارت کی جانب سے ہیڈلی کے لیے معافی سے انھیں امریکا میں ملنے والی 35 سال قید کی سزا پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘

سنہ 2013 میں ہیڈلی کو پاکستانی گروپ لشکر طیبہ کے شدت پسندوں کی مدد کرنے کے الزام سمیت 12 دیگر الزامات میں سزا دی گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے لشکر طیبہ پر ممبئی حملے کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

ابتدا میں صحت جرم سےانکار کرنے کے بعد بھارت کو حوالگی اور سزائے موت سے بچنے کے لیے ہیڈلی نے بعد میں نہ صرف اقرار جرم کرلیا تھا بلکہ امریکی حکام سے مکمل تعاون بھی کیا تھا۔

انھوں نے حملوں سے قبل ممبئی میں ممکنہ اہداف کی نشاندہی میں مدد کرنے کا اعتراف بھی کیا تھا۔

امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ ہیڈلی کا پیدائشی نام داؤد گیلانی ہے جبکہ ان کے والد پاکستانی اور والدہ کا تعلق امریکہ سے ہے۔

سنہ 2006 میں انھوں نے اپنا نام تبدیل کرکے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی رکھ لیا تھا ’تاکہ بھارت میں خود کو ایک امریکی کی حیثیت سے پیش کر سکیں جو نہ مسلمان تھا اور نہ ہی پاکستانی۔‘

ہیڈلی نے مبینہ طور پر امریکی استغاثہ کو بتایا ہے کہ وہ سنہ 2002 سے لشکر طیبہ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔

سنہ 2009 میں امریکہ میں تحقیقات کے وفاقی ادارے ایف بی آئی نے ہیڈلی کو شکاگو سےفلاڈیلفیاجانے والے جہاز پر سوار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا تھا۔

ممبئی میں 60 گھنٹے جاری رہنے والے حملوں کا آغاز 26 نومبر سنہ 2008 کو ہوا تھا۔ ریلوے سٹیشن، لگژری ہوٹلوں، اور یہودی سینٹر پر ہونے والے حملوں میں 166 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ نو حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

بچ جانے والے واحد حملہ آور پاکستانی محمد اجمل عامر قصاب کی سزائے موت پر گذشتہ سال بھارت میں عملدرآمد کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں