پوتن کا روسی فوج کو شام میں سخت کارروائی کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ترکی کی جانب سے ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرانے کے بعد روس اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے روسی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ شام میں کسی بھی قسم کے خطرے کے خلاف ’بہت سخت کارروائی‘ کرے۔

روس کا دولت اسلامیہ پر سمندر سے میزائل حملہ

روس اور ترکی کیا چھپا رہے ہیں؟

پوتن نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے تبصروں میں دفاعی حکام سے کہا کہ روسی فوج کو نشانہ بنانے والے اہداف کو ’فوری طور پر تباہ‘ کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے روس کو لاحق کسی مخصوص خطرے کی وضاحت نہیں کی لیکن ترکی کی جانب سے ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرانے کے بعد روس اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔

ترکی کا کہنا تھا کہ روسی طیارے کی طرف سے ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر یہ انتہائی اقدام اٹھایا گیا تھا جبکہ روس کا اصرار تھا کہ طیارہ شام کی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا۔

روس نے مزید کہا تھا کہ اس نے امریکہ کو اپنے جنگی طیارے کی پرواز کی تفصیلات بھی فراہم کی تھیں۔

ایس یو 24 جنگی طیارے کو مار گرانے کے بعد اس کا ایک پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

جہاز کے دوسرے پائلٹ کو بچانے کے مشن کے دوران ایک روسی میرین بھی ہلاک ہو گیا جس کے بعد ماسکو اور انقرہ کے درمیان تعلقات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption روس کے ایس یو 24 کے جانگی طیارے کو مار گرانے کے بعد اس کا ایک پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا

روس نے رواں سال ستمبر میں شام میں فضائی حملے یہ کہہ کر شروع کیے تھے کہ اس نے یہ قدم شامی صدر بشار الاسد کی مدد کی درخواست پر اٹھایا تھا۔

اپنے خطاب میں صدر پوتن نے فوجی رہنماؤں سے یہ بھی کہا کہ شام میں ’دہشت گرد‘ روس کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ روس میں ایک فوجی اڈے کو نئے جنگی طیارے اور دفاعی سازوسامان کے ساتھ مزید تقویت دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے حقیقی نیت رکھنے والی تمام ریاستوں کے ساتھ‘ تعاون بڑھانا بہت اہم ہے۔

انھوں نے کہا: ’اس تعاون کے تحت پروازوں کی حفاظت کے لیےاسرائیلی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر اور امریکی قیادت میں اتحادی فوج کے ساتھ مسلسل روابط رکھے جائیں گے۔‘

دریں اثنا شمالی شام کے ایک کرد علاقے میں تین ٹرکوں میں بم حملوں سے کم از کم 22 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات آ رہی ہیں۔

ماسکو نے امریکہ کی قیادت میں اتحادی فوج کے اُن الزامات کی تردید کی ہے جن کے مطابق وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے بجائے اعتدال پسند شامی حزب اختلاف کو اپنا ہدف بناتا ہے۔

اسی بارے میں