جاپان میں آخری رسومات کا ٹیلنٹ شو

Image caption سایوکی ٹاکاہاشی نے ماڈل کی بجائے ایک خاتون پر اپنی مہارت کا مطاہرہ کیا جو اگرچہ زندہ تھیں مگر مکمل ساکت

جاپان میں ایک تین روزہ نمائش منعقد ہوئی ہے جس کا واحد مقصد بہترین آخری رسومات کا انتخاب کرنا تھا۔

ٹوکیو میں منعقد ہونے والی ’اختتام زندگی کی صنعتی نمائش‘ میں روزانہ ملک بھر سے سات ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ حالیہ نمائش کی انوکھی بات یہ تھی کہ اس میں مرنے والے کی آخری رسومات ادا کرنے والوں کو بھی جگہ دی گئی جہاں انھوں نے مرنے والے کے جسد خاکی کو تدفین یا چتا جلانے کے لیے تیار کرنے کے مختلف طریقوں کا مظاہرہ کیا۔

جاپان میں آخری رسومات پیشہ وارانہ انداز میں ادا کرنے کے عمل کو ’نوکان‘ کہا جاتا ہے۔

جاپانی ویب سائٹ ’اشاہی شِمبون‘ کے مطابق نمائش میں شرکت کرنے والے افراد اور تنظیمیں مُردے کی تیاری کے طریقوں کی نمائش ایک ماڈل کی مدد سے کر رہے ہیں۔

نمائش کےشرکا کی مہارت کا تعین کرنے کے لیے منتظمین نے جو معیار مقرر کیا تھا اس میں اس بات کا خاص لحاظ رکھاگیا تھا کہ جسد خاکی کو کتنے اہتمام سے اور کتنے پُر وقار انداز میں تیار کیا جاتا ہے۔

مقابلے کے اختتام پر جیتنے والوں کو نقد انعامات اور ٹرافی بھی دی گئی۔

نمائش میں ایک اور مقابلہ بھی شامل کیا گیا جس میں بھکشوؤں اور دیگر مذہبی افراد نے حاضرین کو دوبارہ جاپان کے روایتی تدفین کے طریقوں کی جانب متوجہ کرنے کے لیے اپنی اپنی مہارت کا اظہار کیا۔ اس مقابلے میں شریک کراٹے کے ماہر ایک شخص نے محض اپنے ہاتھ کے زور سے سیمنٹ کی ٹائیلوں کے ایک انبار کو توڑنے کا مظاہرہ بھی کیا۔

نمائش میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اظہار کے علاوہ، ایک بڑا حصہ 200 سے زیادہ کاروباری اداروں کے لیے مختص کیا گیا تھا جہاں انھوں نے جنازوں میں استعمال ہونے والی پُرتعیش گاڑیوں کے علاوہ عجیب و غریب کُوزوں اور صراحیوں کی بھی نمائش کی جن میں چتا جلانے کے بعد خاک جمع کی جاتی ہے۔

نمائش کے کچھ شرکا نے تدفین اور مُردے کی تیاری کے چند غیر روایتی طریقے بھی پیش کیے جن میں ’خلائی تدفین‘ کا طریقہ بھی شامل تھا جس میں مرنے والے کی خاک ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں جا کر بکھیری جاتی ہے۔

Image caption نمائش میں جنازوں میں استعمال ہونے والی پُرتعیش گاڑیاں بھی پیش کی گئیں

اسی بارے میں