سعودی عرب میں پہلی بار خواتین کونسلرز کا انتخاب

Image caption سلمیٰ بن حزاب العتیبی کا مقابلہ سات مردوں اور دو خواتین سے تھا

سعودی عرب میں خواتین کے انتخابات میں حصہ لینے پر عائد پابندی کے خاتمے کے بعد ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میونسپل کونسل کے انتخابات میں خواتین کو منتخب کیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق کم از کم چار خواتین کو منتخب کیا گیا ہے۔ دیگر خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ نو اور 17 کے درمیان خواتین منتخب کی گئی ہیں۔

ایس پی اے کے مطابق مکہ، جوف اور تبوک کے شہروں میں منعقد میونسپل کونسل کے انتخابات میں خواتین کو منتخب کیا گیا تھا۔

سعودی عرب میں خواتین کی جانب سے پہلی بار حق رائے دہی استعمال کرنا اس قدامت پسند ملک میں ایک تاریخی قدم سمجھا جا رہا ہے۔

سعودی عرب کے انتخابی کمیشن کے مطابق سلمیٰ بن حزاب العتیبی نے سنیچر کو ہونے والے انتخاب میں مکہ صوبے سے کامیابی حاصل کی۔

سعودی خواتین کا پہلی مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال

یہ سعودی عرب کی تاریخ میں پہلے انتخابات تھے جن میں خواتین کو نہ صرف ووٹ ڈالنے بلکے انتحاب لڑنے کا بھی کا حق دیا گیا تھا۔ اس اقدام کو قدامت پسند ریاست میں ایک سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سعودی خواتین کو اب بھی سماجی زندگی میں کچھ حدود کا سامنا ہے جن میں گاڑی چلانے پر پابندی شامل ہے۔

سعودی انتخابات میں 5938 مردوں کے ساتھ ساتھ 978 خواتین امیدواروں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا۔

حکام کے مطابق ان انتخابات کے لیے ساڑھےے تیرہ لاکھ مردوں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ 30 ہزار خواتین کے ووٹ رجسٹر کیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی انتخابات میں 5938 مردوں کے ساتھ ساتھ 978 خواتین امیدواروں نے بھی انتخابات میں حصہ لیا

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ووٹرز کی تعداد کے اس فرق کا ذمہ دار بیورو کریٹک رکاوٹوں اور ذرائع نقل و حمل کی کمی کو ٹھہرایا گیا۔

اس کے علاوہ انتخابی مہم کے دوران خواتین امیدواروں کو براہِ راست مرد ووٹوں سے بات کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ٹرن آوٹ کافی زیادہ تھا۔

انتخابی کمیشن کے صدر اسامہ البدر نے بتایا کہ سلمیٰ بن حزاب العتیبی نے مکہ کے علاقے مدرکہ سے کامیابی حاصل کی۔ ان کا مقابلہ سات مردوں اور دو خواتین سے تھا۔

سعودی عرب میں کسی بھی قسم کے انتخاب نایاب ہوتے ہیں۔ سنیچر کے انتخابات تاریخ میں محض تیسرا موقع ہے جب سعودی عرب میں کوئی انتخاب ہوا ہے۔

سنہ 1965 سے لے کر 2005 تک یہاں کسی قسم کا کوئی انتحاب نہیں ہوا۔

خواتین کو شرکت کا موقع دینے کا فیصلہ شاہ عبداللہ کا تھا۔ انھوں نے اصلاحات میں اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین نے اپنا مقام دکھایا ہے اور صحیح آرا اور مشورے دیے ہیں۔

جنوری میں انتقال سے قبل انھوں نے 30 خواتین کو اعلی ترین مشاورتی کونسل کا رکن بنایا تھا۔

سنیچر کے انتخابات میں کونسل کی 2100 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔ جبکہ 1050 نشستوں پر شاہ کی منظوری سے تقرریاں کی گئی۔

اسی بارے میں