دولتِ اسلامیہ کے رہنما کہیں نہیں چھپ سکتے: براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اوباما نے دعویٰ کیا کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ جس علاقے پر قابض تھی اس میں سے 40 فیصد علاقہ ان سے واپس لیا جا چکا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کا ملک شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نشانہ بنا رہا ہے۔

تاہم انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ یہ ایک مشکل جنگ ہے اور اس میں تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

’آزادی خوف سے کہیں زیادہ طاقتور ہے‘

دولت اسلامیہ کے مالیاتی امور کے سربراہ ’ ہلاک‘

امریکی محکمۂ دفاع میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ امریکہ نے نہ صرف دولتِ اسلامیہ کے کئی اہم رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے بلکہ تیل کی ان تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں جن سے حاصل شدہ تیل فروخت کر کے شدت پسند تنظیم کارروائیوں کے لیے رقم فراہم کرتی رہی تھی۔

براک اوباما کا کہنا تھا کہ نومبر کے مہینے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جتنے حملے کیے گئے اتنے اب تک نہیں کیے گئے تھے۔

سنہ 2014 کے موسمِ گرما سے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف امریکی قیادت میں شروع ہونے عسکری مہم کے دوران تقریباً نو ہزار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔

براک اوباما نے دعویٰ کیا کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ جس علاقے پر قابض تھی اس میں سے 40 فیصد علاقہ اس سے واپس لیا جا چکا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس شدت پسند تنظیم نے عراق یا شام کے کسی بھی علاقے میں رواں سال موسمِ گرم سے اب تک کوئی کامیاب زمینی کارروائی نہیں کی ہے۔

امریکی صدر نے کویتی نژاد برطانوی شہری محمد ایموازی المعروف جہادی جان سمیت دولتِ اسلامیہ کے ان شدت پسند رہنماؤں کے نام بھی بتائے جو حالیہ کارروائیوں میں مارے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’داعش کے رہنما کہیں نہیں چھپ سکتے اور ان کے لیے ہمارا سادہ اور واضح پیغام یہی ہے کہ اب تمہاری باری ہے۔‘

کامیابیوں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے خبردار بھی کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو آنے والے وقت میں ایک بہت مشکل جنگ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ یہ اس ماہ امریکی صدر کا دوسرا اہم خطاب ہے جس کا موضوع دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی کارروائیاں رہا ہے۔

اس سے قبل کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں 14 افراد کی ہلاکت کے واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس سے براہ راست خطاب میں انھوں نے کہا تھا کہ ’دولتِ اسلامیہ، اسلام کی ترجمان نہیں۔‘ اور امریکہ اس شدت پسند تنظیم سے لڑنے کے لیے اپنی ہر ممکن طاقت استعمال کرے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شدت پسند امریکی معاشرے میں موجود امتیاز کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور امریکی عوام کا اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے خلاف ہو جانا ہی وہ اصل چیز ہے جو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں