بھگوڑے امریکی فوجی کو کورٹ مارشل کا سامنا

Image caption برگڈال نے حال ہی میں کہا تھا کہ اپنے اڈے سے بھاگ کر وہ اپنی یونٹ کی بری قیادت کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے تھے

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ پانچ برس تک طالبان کی قید میں رہنے والے سارجنٹ بو برگڈال کو فوج سے منحرف ہونے سمیت دیگر الزامات کے تحت جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

فوجی عدالت کے جنرل رابرٹ ابرامز نے سارجنٹ برگڈال کے مقدمے کو کم سزا دینے کا اختیار رکھنے والی عدالت میں چلانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ دیا۔

’برگڈال کو قید کی سزا نہیں ہونی چاہیے‘

جنرل کورٹ مارشل کی صورت میں مجرم ثابت ہونے پر سارجنٹ برگڈال کو عمر قید ہو سکتی ہے۔

پیر کو ایک بیان میں امریکی فوج نےکہا ہے کہ سارجنٹ برگڈال پر اہم یا مشکل ڈیوٹی کی وجہ سے فوج سے بھگوڑا ہونے اور دشمن کے سامنے غلط رویے کا مظاہرہ کر کے اپنی کمانڈ یا یونٹ کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلے گا۔

برگڈال کے وکیل یوجین فیڈل نے امید ظاہر کی کہ مقدمہ اس رخ پر نہیں جائے گا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا برگڈال پر جو الزامات عائد کیے گئے ہیں وہ ابتدائی سماعت میں پیش کیےگئے ثبوتوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بو برگڈال کو پانچ طالبان قیدی کی رہائی کے عوض رہا کروایا گيا تھا

خیال رہے کہ رواں ماہ اکتوبر میں فوجی عدالت نے سارجنٹ برگڈال کے معاملے کی ابتدائی سماعت کے بعد تجویز دی تھی کہ ان کا جنرل کورٹ مارشل کرنے کی بجائے یہ مقدمہ کم درجے کے جرائم کی سماعت کرنے والی فوجی عدالت کو بھیجا جانا چاہیے۔

سارجنٹ برگڈال کو گذشتہ سال مئی میں طالبان سے متنازع قیدیوں کے تبادلے میں رہا کروایا گیا تھا۔

وہ جون سنہ 2009 میں پاکستانی سرحد کے نزدیک افغان علاقے میں قائم اپنی چیک پوسٹ چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جس کے بعد افغان طالبان نے انھیں اغوا کر لیا تھا۔

بو برگڈال کے بدلے میں امریکہ نے گوانتانامو بے میں قید طالبان کے پانچ کمانڈروں کو رہا کیا تھا۔

سارجنٹ برگڈال نے رواں ماہ کے آغاز میں اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اپنے اڈے سے بھاگ کر وہ اپنی یونٹ کی بری قیادت کی جانب توجہ مبذول کروانا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں