دولتِ اسلامیہ اپنا وجود کیسے برقرار رکھ رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک سال سے جاری لگاتار فضائی حملوں کے باوجود دولتِ اسلامیہ نے خود کو قابلِ ذکر مزاحمت کار ثابت کیا ہے

عراقی فورسز کی جانب سے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے رمادی کا بڑے حصہ واپس لے لینا اس تنظیم کے لیے تازہ ترین علاقائی دھچکہ ہے۔

دولتِ اسلامیہ تکریت، سنجار اور بائیجی جیسے علاقوں سے پہلے ہی بےدخل ہو چکے ہیں۔

مسلسل تبدیلیوں اور ایک سال سے جاری لگاتار فضائی حملوں کے باوجود دولتِ اسلامیہ نے خود کو قابلِ ذکر مزاحمت کار ثابت کیا ہے۔

’اتحاد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف سنیوں کا کردار بڑھے گا‘

دولتِ اسلامیہ کے رہنما کہیں نہیں چھپ سکتے: براک اوباما

دولت اسلامیہ کے مالیاتی امور کے سربراہ ’ ہلاک‘

اُنھوں نے شام کے وسطی اور مشرقی علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور شمالی شہر رقہ کے اردگرد کے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے، اور اب بھی عراق کے دوسرے شہر موصل میں مورچہ بند ہیں۔ اُس کی کئی وجوہات ہیں، اور فوقیت اور مرکزیت دو کلیدی نکتے ہیں۔

ایک سابق باغی کمانڈر جو کہ اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، اُنھوں نے بتایا ’دولتِ اسلامیہ تقریباً ہر دو مہینوں میں ایک بار حملہ یا لڑائی کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔ شام کے صدر بشار الاسد اور اُن کے اتحادی ہر آدھے گھنٹے میں شدید بم برساتے ہیں۔ اِس سے آپ اموات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘

اگر اِس کا طالبان حکومت سے مقابلہ کیا جائے تو دولتِ اسلامیہ زیادہ مضبوط ہے۔ طالبان حکومت مغربی افواج کے حملوں میں صرف دو ماہ میں ختم ہوگئی تھی اور افغانستان سے اسلامی اور سیکیولر باغیوں کی مرکزیت ختم کر دی گئی تھی۔

ایسی صورتِ حال میں دولتِ اسلامیہ کی مضبوطی اُلجھن میں مبتلا کر رہی ہے۔

تعداد سے زیادہ

اس عسکری تنظیم کی قوت اور طاقت کا تناسب اس کے دشمنوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

امریکی سی آئی اے نے ستمبر سنہ 2014 میں تخمینہ لگایا تھا کہ دولت ِاسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد 20 سے 31 ہزار کے درمیان ہے۔

اگر صرف عراق کی مسلح اور سکیورٹی افواج کی بات کی جائے تو طاقت کا تناسب 8 اور 1 بنتا ہے۔

اِس میں عراقی فوج کے اتحادی شیعہ ملیشیا، سنی قبائلی ملیشیا، کرد فورسز شامل نہیں ہیں۔ ستمبر 2014 سے 60 سے زائد ریاستوں کے اتحاد میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر ہزاروں حملوں کا بھی کوئی شمار نہیں ہے۔

دس جون سنہ 2014 کو موصل میں عراق کی 30 ہزار سکیورٹی افواج کے جوان دولتِ اسلامیہ کے حملے کو سامنا نہیں کر سکے۔ اندازے کے مطابق اِس حملے میں دولتِ اسلامیہ کے صرف 800 سے 1,500 کے درمیان جنگجو شریک تھے۔

موصل سے تعلق رکھنے والی دو ڈویژنوں کے سپاہی حملہ آوروں کی کُل تعداد سے زیادہ تھے اور اِن کا تناسب کم سے کم 20 جوانوں کے مقابلے میں ایک کا تھا۔ دوسرے علاقوں میں جہاں دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہے، جیسے کہ مصر میں شمال مشرقی سینا کا علاقہ وہاں حکومتی افواج اور دولتِ اسلامیہ کے وفاداروں کے درمیان طاقت کا تناسب 500 اور ایک کا ہے۔

منتشر اور پوشیدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزارت دفاع کے مطابق فضائی حملوں کے آغاز سے لے کر اب تک دولتِ اسلامیہ کے خلاف 8,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے ہیں اور اُس کے 10,000 سے زائد جنگجوؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

اب اور خاص طور پر اتحادیوں کی مداخلت کے بعد بھی شدت پسند تنظیم کو بھرتی اور حرکت کرنے میں زیادہ بڑی مشکلات نہیں ہیں۔

فضائی حملوں کے جواب میں جنگجو اپنے ساز و سامان کو منتشر کر دیتے ہیں اور ادھر ادھر چھپا دیتے ہیں، اور جب اُن پر براہ راست حملہ نہ ہو تو وہ عام شہریوں میں مل جاتے ہیں۔

اُن کے پاس اب بھی یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ حکمتِ عملی کی بنیاد پر حیران کر دیں اور صورتِ حال کا بھر پور فائدہ اُٹھائیں اور میدانِ جنگ کو درہم برہم کر دیں۔

اُنھوں نے اپنی دہشت گردی کی حکمتِ عملی کو مغربی شہروں تک پہنچا دیا ہے۔ فضائی حملوں سے قبل مغربی شہر میں دولت اسلامیہ کی جانب سے صرف ایک حملہ کیا گیا تھا۔ لیکن جب سے فضائی حملوں کا آغاز ہوا ہے، یہاں 25 سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں۔

تین ستون

مغرب کی جوابی حکمتِ عملی کے کچھ اچھے نتائج بھی ہیں۔

یہ تین ستونوں پر مبنی ہے:

1 مختصر وقت کی روک تھام کے لیے فضائی حملے

2 وسط مدت تباہی کے لیے مقامی اتحادیوں کو مسلح کرنا

3 مختصر اور طویل مدت کی روک تھام کے لیے مفاہمت اور جمہوریت کے ذریعے سے سیاسی ماحول میں اصلاحات کرنا۔

عراق اور شام میں فضائی حملوں نے دولتِ اسلامیہ کو روایتی فوجی حکمتِ عملی کے استعمال کو محدود کرنے پر مجبور کیا۔ جیسا کہ سنہ 2014 کے وسط میں ہوا تھا جب اُس نے علاقوں میں سینکڑوں بکتر بند گاڑیوں اور مسلح پک اپ ٹرکوں پر قافلوں کے ذریعے داخل ہوئے تھے۔

اصولی طور پر دولتِ اسلامیہ کو زمین پر شکست دینے کی ذمہ داری اتحادیوں سے مقامی اتحادیوں کو منتقل ہو جائے گی۔ یہ تیسرا ستون غیر واضح ہے۔

بنیادی مسائل

تیسرے ستون میں کامیابی بہت مشکل ہے۔

اِس سے لگتا ہے کہ خطے کی غیر فعال سیاست میں دولتِ اسلامیہ صرف علامت ہے مسئلے کی جڑ نہیں۔ جبکہ کسی بھی طویل المیعاد حل کے ذریعے سے سیاسی ماحول کی اصلاح ضرورت ہے، جو چار دہائیوں سے مسلسل انتہا پسندی کا شکار ہے۔

دولتِ اسلامیہ کو عسکری طور پر شکست دینا اِس کے قیام کے پیچھے کار فرما بہت سے مسائل کے سامنے صرف عارضی عمل ہو گا۔ نہ صرف عراق اور شام میں بلکہ مصر، لیبیا، یمن اور سعودی عرب میں بھی۔

اب دولتِ اسلامیہ کی عسکری شکست بگڑے ہوئے زخم پر پٹی باندھنے سے زیادہ نہیں ہے۔

آخر میں پائیدار سیاسی اصلاحات اور مصالحت کا عمل ہی ضروری ہو گا۔ فوجی مہم کے دوران فیصلہ سازوں کو اپنے سٹریٹجک مقاصد نہیں بھولنے چاہییں۔

اسی بارے میں