’سونے سے لدی ٹرین کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ نازی جرمنی دور کی سونے سے لدی ہوئی گمشدہ ریل گاڑی پولینڈ میں تلاش کر لی گئی ہے۔

پولینڈ میں اینڈریاس رِکٹر اور پیوٹر کوپر نامی دو افراد نے رواں برس اگست میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس اس گاڑی کے موجودہ مقام کے بارے میں’ناقابل تردید‘ ثبوت موجود ہیں۔

سونے سے لدی نازی ٹرین دریافت کرنے کا دعویٰ

یہ ٹرین حالیہ پولینڈ کے شہر وارکلو کے قریب لاپتہ ہوئی تھی جس پر سوویت فوج نے 1945 میں قبضہ کر لیا تھا۔ اس ٹرین کے متعلق افواہ ہے کہ اس پر ٹنوں سونا، جواہرات اور بندوقیں لدی ہوئی تھیں۔

یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد پولینڈ کی حکومت کی جانب سے زمین کے اندر کی تصاویر لی گئی تھیں اور ملک کے نائب وزیر برائے ثقافت پیوٹر زوکاسکی نے کہا تھا کہ انھیں 99 فیصد یقین ہے دوسری جنگِ عظیم میں لاپتہ ہو جانے والی نازیوں کی ٹرین ملک کے جنوب مغربی شہر والبرزچ کے قریب مٹی کے نیچے دفن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نازیوں نے 1943 سے 1945 کے درمیان جنگی قیدیوں سے والبرزچ کے قریب میلوں لمبی سرنگیں کھدوائی تھیں

تاہم ان دعووں کی تحقیق کرنے والی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ والبرزچ میں زیرِ زمین ایک سرنگ تو ہو سکتی ہے لیکن وہاں کوئی ریل گاڑی موجود نہیں ہے۔

کراکو کی اکیڈمی آف مائننگ سے تعلق رکھنے والے اس ٹیم کے رکن پروفیسر جانوز مدیج نے منگل کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذکورہ علاقے کے ارضیاتی سروے سے کسی ٹرین کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

والبرزچ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ممکن ہے کہ وہاں ایک سرنگ ہو مگر وہاں کوئی ٹرین نہیں ہے۔‘

تاہم ٹرین کی دریافت کا دعویٰ کرنے والے افراد میں سے ایک پیوٹر کوپر نے اس جائزے کے طریقۂ کار پر سوال اٹھائے ہیں اور کہا ہے کہ وہ اب بھی یہی سمجھتے ہیں کہ ٹرین وہیں ہے۔

Image caption اینڈریاس رِکٹر اور پیوٹر کوپر نامی افراد نے رواں برس اگست میں ٹرین ڈھونڈ نکالنے کا دعویٰ کیا تھا

اس ٹرین کے مذکورہ مقام کا پتہ اس وقت چلا تھا جب اسے چھپانے کے عمل میں مبینہ طور پر شامل ایک شخص نے بسترِ مرگ پر اس کے بارے میں بتایا۔

خیال رہے کہ نازیوں نے 1943 سے 1945 کے درمیان جنگی قیدیوں سے والبرزچ کے قریب میلوں لمبی سرنگیں کھدوائی تھیں جن میں سے کچھ اب سیاحتی مقام بن چکی ہیں۔

اسی بارے میں