’حملہ آور جوڑے نے کھلے عام جہاد کی حمایت نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تاشفین ملک اپنے سوشل میڈیا کا اکاؤنٹ استعمال کر کے پر تشدد جہاد کے لیے حمایت ظاہر کرتی تھیں

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کہا ہے کہ کیلیفورنیا میں 14 افراد کے قتل کے مجرم جوڑے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کھلے عام جہاد کی حمایت کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے اس سلسلے میں ماضی میں سامنے آنے والی خبروں کو مسترد کیا ہے۔

’حملہ آور باہمی ملاقات قبل ہی شدت پسندی کی جانب مائل تھے‘

’حملہ آور جوڑے نے حملے سے قبل نشانہ بازی کی مشقیں کیں‘

ان کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نےکھلے عام نہیں بلکہ ’براہ راست نجی پیغاموں‘ کے ذریعے شہادت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

تاشفین نے رضوان فاروق کے ہمراہ سان برنارڈینو کے علاقے میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

یہ دونوں حملے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔

بدھ کی صبح نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیمز کومی نے یہ بھی کہا کہ ’اس بات کا اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ حملہ آور کسی منظم جہادی گروپ کا حصہ تھے۔‘ ,

تاہم انھوں نے بتایا کہ تاشفین کی امریکہ آمد سے قبل وہ اور رضوان جہاد کی حمایت کا اظہار کر چکے تھے۔

جیمز کومی نے یہ بھی کہا کہ ’شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجو سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگوں کو حملے کرنے کے لیے متاثر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سکیورٹی تنظیمیں ایک نئے قسم کے چیلنج کا سامنا کر رہی ہیں۔‘

حال ہی میں امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر تنقید کی گئی تھی کہ انھوں نے حملہ آور تاشفین ملک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا جائزہ لیے بغیر انھیں سنہ 2014 میں امریکہ میں داخل ہونے دیا تھا۔

تاشفین ملک منگیتر کے ویزے کے ذریعے سعودی عرب سے امریکہ آئی تھیں۔

نیویارک سے امریکی سینیٹ کے رکن چک شومر نے کہا ہے: ’اگر سکیورٹی اہلکاروں نے تاشفین ملک کے بارے میں چھان بین کی ہوتی تو شاید آج سان برنارڈینو میں وہ لوگ بھی زندہ ہوتے۔‘

اس واقعے کے بعد ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ لوگوں کے پس منظر کا جائزہ لینے کے سلسلے میں سکیورٹی اہلکار کس قسم کی حدود کا سامنا کرتے ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جائے۔

اسی بارے میں