عراقی صحرا سے دو درجن سے زیادہ قطری شکاری اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی سکیورٹی فورسز نے شکاریوں کی تلاش شروع کر دی ہے

عراق میں پولیس اور مقامی گورنر کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے سعودی سرحد کے قریب صحرائی علاقے سے کم سے کم 26 قطری شکاریوں کو اغوا کر لیا ہے جن میں شاہی خاندان کے ارکان بھی شامل ہیں۔

عراقی حکام نے بی بی سی عربی کو بتایا ہے کہ بدھ کی صبح درجنوں جیپوں پر سوار حملہ آوروں شکاریوں کے کیمپ میں داخل ہوئے۔

یہ کیمپ صوبہ ناصریہ کے دارالحکومت سماوا سے 130 کلو میٹر دور لیہ کے علاقے میں قائم تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹر کے مطابق سال اس حصے میں اکثر کئی خلیجی ممالک سے شکاری اس علاقے میں شکار کے لیے آتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر حملہ آوروں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ نےایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اعلیٰ ترین سطح پر عراقی حکومت کے ساتھ مل کر اپنے شہریوں کے اغوا کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے اور ان کی جلد از جلد رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شکاری عراقی حکومت کی اجازت سے اس علاقے میں موجود تھے تاہم عراق کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد ان علاقوں تک محدود نہیں رہے جہاں تک انھیں رہنے کو کہا گیا تھا۔

عراقی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اغوا کی اس واردات کا مقصد ’سیاسی اور ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنا دکھائی دیتا ہے۔‘

تاحال یہ نہیں بتایا گیا کہ اغوا ہونے والوں میں قطر کے شاہی خاندان کے کتنے ارکان ہیں اور نہ ہی کسی مغوی کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ جس علاقے سے قطری شکاریوں کو اغوا کیا گیا ہے وہاں شیعہ اکثریت ہے۔

ان کے مطابق عراقی حکومت میں شامل شیعہ سیاسی جماعتیں شام میں سنّی باغیوں کی حمایت پر قطر سے خوش نہیں اور اس لیے عراق میں قطری شہریوں کا اغوا ایک بڑا سفارتی معاملہ بن سکتا ہے۔

سماوا کے پولیس افسر نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’شکاریوں کو عراقی سکیورٹی فورسز نے محافظ فراہم کیے تھے لیکن انھوں نے زیادہ مسلح محافظ ساتھ نہ رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم کم سے کم سو مسلح افراد کی بات کر رہے ہیں جو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے لیس تھے۔‘

امریکی اتحادیوں کی داخل ہونے اور قبضے کے تقریبا 12 سال کے بعد بھی عراق میں پر تشدد اور جنگجوؤں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ ستمبر میں 16 ترک کارکنوں کو بغداد سے مبینہ طور پر شیعہ مسلم جنگجوؤں کی جانب سے اغوا کرنے کے ایک ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔