ریپبلیکن امیدواروں میں دولت اسلامیہ پر گرما گرم مباحثہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مباحثے میں ڈونلڈ ٹرمپ دفاعی انداز میں نظر آئے جبکہ جیب بش نے انھیں ایک ’افراتفری پیدا کرنے والا امیدوار‘ کہا

امریکہ میں ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار کے لیے منعقدہ مباحثے میں قومی سلامتی کے معاملے اور دولت اسلامیہ سے نمٹنے کے طریقے پر امیدواروں میں تکرار ہوتی نظر آئی۔

جو امیدوار زیادہ نگرانی کے حق میں ہیں اور جو شہری آزادی کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں ان کے درمیان خلیج نظر آئی۔

کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی صدر بن سکتے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل

ریپبلیکن کی جانب سے دوڑ میں پیش پیش نظر آنے والے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ دفاعی انداز میں نظر آئے جبکہ جیب بش نے انھیں ایک ’افراتفری پیدا کرنے والا امیدوار‘ کہا۔

دوسری جانب سنیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے درمیان نگرانی کے معاملے پر اختلافات نظر آئے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی مسلمانوں کو امریکہ نہ داخل ہونے دینے کی تجویز نے مباحثے کے آغاز میں ہی انھیں دفاع پر مجبور کر دیا۔

مسٹر ٹرمپ نے کہا: ’ہم انھیں تنہا کرنے دینے کے بارے میں نہیں کہ رہے ہیں ہم سکیورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم مذہب کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہیں ہم سکیورٹی کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنیٹر مارکو روبیو اور ٹیڈ کروز کے درمیان نگرانی کے معاملے پر اختلافات نظر آئے

اس کے بعد مباحثہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے وسیع موضوعات کی جانب چلا گيا۔

مسٹر ٹرمپ کی دولت اسلامیہ کو روکنے کے لیے ’انٹرنٹ بند کرنے‘ کی تجویز پر بھی گرما گرم بحث رہی اور جب انھوں نے اپنی تجویز کے دفاع کی کوشش کی تو انھیں سامعین کی جانب سے مذاق کا نشانہ بنایا گيا۔

اس نام نہاد مباحثے میں مسٹر ٹرمپ حیران و پریشان نظر آئے جبکہ ریپبلیکن کے چاروں امیدوار ان کے مجوزہ منصوبوں کے کارگر ہونے پر متفق نہیں تھے۔

سینیٹر لنڈسے گراہم نے مسلم رہنماؤں سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا: ’میں معذرت خواہ ہوں۔ وہ ہماری نمائندگی نہیں کرتے۔‘

بہر حال دولت اسلامیہ کا خطرہ پہلے مذاکرے میں چھایا رہا اور امیدواروں میں اس بات پر بحث ہوتی رہی کہ آیا امریکی فوج کو دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے براہ راست لڑنے کے لیے شام و عراق بھیجنا چاہیے یا نہیں۔

مسٹر گراہم نے جنگ کا نقارہ بجا کر اس کی حمایت کی جبکہ ارکنساس کے سابق گورنر مائک ہوکابی نے کہا کہ امریکی فوجی عراق اور افغانستان کی جنگ سے پہلے ہی تھکے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں