’یمن میں جنگ بندی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سوئٹزرلینڈ میں امن پر ہونے والے مذاکرات کے دوران اقوام متحدہ نے وفود سے کہا کہ امن کے لیے ہمت کی ضرورت پڑتی ہے

یمن میں عسکری کارروائیاں کرنے والے سعودی عرب کی زیرِ قیادت اتحاد نے متنبہ کیا ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں سے جنگ بندی کا معاہدہ کسی بھی وقت ختم ہو سکتا ہے۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے معاہدے کی 150 مرتبہ خلاف ورزی کی جا چکی ہے اور اقوامِ متحدہ کو چاہیے کہ وہ باغیوں کو بتا دے کہ برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔

یمن میں سات روزہ جنگ بندی کے بعد امن مذاکرات

یمن میں میزائل حملہ، سعودی کرنل سمیت کئی اتحادی فوجی ہلاک

اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں یمنی حکومت اور شیعہ حوثی باغیوں کے درمیان سات روزہ جنگ بندی کا آغاز منگل کی دوپہر سے ہوا تھا۔

سعودی اتحاد کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب بدھ کو فریقین نے سینکڑوں قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے جو ملک میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات کے آغاز کے بعد پہلا اہم قدم ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کو یمن کے حُکام نے بتایا ہے کہ ملک میں فریقین کے درمیان حوثی باغی موومنٹ کے 360 اور 265 شہریوں اور حکومت نواز جنگجوؤں کا تبادلہ ہوا ہے۔

العریبیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ تبادلہ جنوبی صوبے لحج میں کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ فریقین پر زور دیتی رہی ہے کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں بدھ کو ہونے والے مذاکرات کے موقعے پر قیدیوں کے تبادلہ کرے۔

اِس تنازعے کے دوران مارچ سے اب تک تقریباً 5870 افراد مارے جا چکے ہیں۔

مارچ ہی کے مہینے میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں حُکومت کی بحالی کے لیے فوجی مہم جوئی شروع کی تھی اور حوثی باغیوں اور اُن کے حلیفوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حُکومت نواز جنگجوؤں اور حوثی باغیوں کے درمیان سات روزہ جنگ بندی کا اعلان تو منگل کے دن کیا گیا تھا لیکن دونوں فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں

اِس دوران پہلے سے بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورت حال شدید خراب ہو گئی ہے اور کُل آبادی کے 80 فیصد کے برابر، یعنی دو کروڑ دس لاکھ افراد مدد کے منتظر ہیں۔

حُکومت نواز جنگجوؤں اور حوثی باغیوں کے درمیان سات روزہ جنگ بندی کا اعلان تو منگل کے دن کیا گیا تھا لیکن اُس کا اطلاق عملاً آج اُس وقت ہوا جب سوئٹزرلینڈ کے ’میکولن‘ نامی گاؤں میں امن مذاکرات شروع ہوئے۔

جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے پر اِس کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات لگاتے رہے۔

سیکریٹری جنرل کے یمن کے لیے خصوصی نمائندے اسماعیل شیخ احمد نے آج کے دن کو یمن میں تشدد کے خاتمے کا آغاز اور دیر پا امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا ہے۔

اُنھوں نے فریقین کو اِس فیصلے کا احترام کرنے اور تنازعے کے خاتمے کی کوششیں کرنے کی تلقین کی ہے۔

اسماعیل شیخ احمد نے کہا کہ فریقین اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کے نفاذ کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جو اُنھیں تشدد ختم کا پابند کرتی ہے اورایسے یک طرفہ اقدامات کرنے سے روکتی ہے جو سیاسی عمل کو خطرے میں ڈال دیں۔

اِس قرارداد میں حوثی باغیوں اور اُن کے حلیفوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ علاقے خالی کر دیں اور قبضے میں لیے ہوئے ہتھیار واپس کر دیں۔

اِس سے جون کے مہینے میں جنیوا میں ہونے والے بالواسطہ امن مذاکرات بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں