دلخراش تصاویر کے کردار کہاں گئے؟

گزشتہ عرصے میں جب بھی شمالی یورپ کی جانب گامزن مہاجرین اور تارکین وطن کی کوئی دلخراش تصویر منظر پر آئی، اس نے دنیا بھر میں لوگوں کے دل دہلا دیے اور ہر دوسرے شخص کی آنکھ بھر آئی۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیمرہ بند ہو جانے کے بعد اس مہاجر یا تارک وطن کا کیا ہوا، وہ لوگ گئے کہاں؟

یہی جاننے کے لیے ہماری نام نگار کیٹی رضال نے ان تصویروں کے تین کرداروں سے ملاقات کی ہے۔

15 اگست 2015 کی ایک تصویر کے کردار، لیث مجید

’کاش مجھے اپنی تصویر کبھی دوباہ نہ دیکھنی پڑی،‘

لیث مجید کی اوپر دی گئی تصویر اس وقت کھینچی گئی تھی جب وہ اپنے خاندان کے ہمراہ لٹے پٹے یونان کے ساحل پر اترے تھے، اور اس دن کے بعد یہ تصویر ا‘س کھٹن سفر اور درد کی علامت بن گئی جس سے گزر کر مہاجرین یورپ پہنچ رہے ہیں۔

میں نے جب لیث کو یہ تصویر دکھائی تو ان کی ہمت جواب دے گئی اور وہ ایک مرتبہ پھر رو دیے۔

’یہ تصویر اس پریشانی اور ان مصیبتوں کو ایک مرتبہ پھر تازہ کر دی دیتی ہے جو میری بیوی بچوں اور میں نے برداشت کیں۔ ہم مرتے مرتے بچے تھے۔‘

جب لیث مجھے ایک ٹوٹی پھوٹی کشتی پر اپنے جان لیوا سفر کی کہانی سنا رہے تھے تو ان کے رواں آنسوؤں کو دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔

’ہم اس ہوا میں سانس لے رہے تھے جس میں موت کی بدبو پھیل چکی تھی۔ ہماری حالت ناقابلِ بیان تھی۔ ہمارے ذہن ماؤف ہو چکے تھے۔ اس چھوٹی کشتی پر سوار لوگوں میں سے کچھ مر چکے تھے اور باقی بچ جانے والے کسی بھی لمحے سمندر میں ڈوب سکتے تھے۔ ہمیں لگا کہ ہم لوگ بھی اپنے بچوں سمیت جلد ہی مر جائیں گے۔‘

تصویر میں لیث کے چہرے پر درد، کسی بڑے درد سے نجات اور خوف کے ملے جلے جذبات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

لیث کی اہلیہ ندا کا کہنا تھا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جب وہ جرمنی کی سڑک پر نکلتے ہیں تو لوگ انھیں فوراً پہچان لیتے ہیں۔

’ہم جہاں جاتے ہیں، لوگ میرے شوہر سے کہتے ہیں کہ ’’ہم نے آپ کی تصویر دیکھی تھی۔ امید ہے اب آپ محفوظ ہیں اور یہاں جرمنی میں خوش ہیں؟‘‘

لیث کہتے ہیں کہ جنتی توجہ انھیں اپنی تصویر کے بعد ملی ہے وہ اس پر ابھی تک حیران ہیں۔

’میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میری اس المناک تصویر کے بعد مجھے جرمنی اور باقی دنیا سے اتنی توجہ ملے گی۔ مجھے خوش ہوتی ہے کہ اس تصویر کے حوالے سے دنیا بھر میں لوگ میرے دوست بن گئے ہیں، لیکن میں جب بھی اپنی تصویر دیکھتا ہوں، غم میں ڈوب جاتا ہوں۔‘

لیث اور ندا کے چار بچے ہیں، جن میں سے سب سے چھوٹا رات کو سکون سے سو نہیں سکتا۔ اس نے سمندر میں جو دہشت دیکھی، اس کے خیال سے وہ ہڑبڑا کر جاگ گاتا ہے۔

چونکہ اُس کشتی پر زیادہ تر لوگ شام سے تھے، اسی لیے ذرائع ابلاغ میں شروع شروع میں لیث اور ان کے خاندان کو بھی شامی بتایا گیا، لیکن اصل میں لیث اور ندا کا تعلق عراق سے ہے۔

بغداد میں لیث مکینک کا کام کرتے تھے اور ان کی اپنی دکان بھی تھی۔ ندا سکول میں پڑھاتی تھیں، لیکن جب غنڈوں نے انھیں دھمکیاں دینا شروع کر دیں تو انھوں نے عراق سے نکل جانے کا فیصلہ کر لیا۔

’وہ دو مرتبہ میرے بچے کو اغوا کر کے مجھ سے تاوان وصول کر چکے تھے، لیکن وہ باز نہیں آ رہے تھے اور مجھے دھمکیاں دیتے تھے کہ وہ ایک مرتبہ پھر میرے بچے کو اغوا کر لیں گے۔‘

ندا نے مجھے بتایا کہ غنڈوں سے جان چھڑانے کے لیے وہ لوگ تاوان میں بیس لاکھ عراقی دینار (2,400 پاؤنڈ) دے چکے تھے لیکن ’وہ لوگ پھر بھی ہمارے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔‘

آخر میں بھی اس غنڈے کا یہی کہنا تھا کہ ’ مجھے رقم ادا کر۔ اگر تم پیسے نہیں دو گی تو ہم تمھارے شوہر کو مار دیں گے، اور تہمارے ایک بچے کو بھی تم سے چھین لیں گے۔‘

لیث کا کہنا تھا کہ ’یہاں جرمنی میں ہم خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور لوگوں کا سلوک بہت اچھا ہے۔‘

لیث اپنے خاندان کے ہمرارہ ہزاروں دیگر تارکین وطن کے ساتھ ایک پرانی فوجی بیرک میں رہ رہے ہیں جہاں ہر گھرانے کے پاس اپنا ایک کمرہ ہے۔

لیث کی ضیعیف والدہ ابھی تک عراق میں ہیں۔ لیث کو خطرہ ہے کہ کوئی غنڈہ ان کی والدہ کو مار دے گا، اسی لیے وہ والدہ کو بھی اپنے پاس جرمنی بلانا چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک لیث اور ان کے خاندان کبو جرمنی میں سکونت کا حق نہیں ملا ہے اور ان کی پناہ کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

لیث اور ندا کو فکر ہے کہ اگر ان کی درخواست مسترد ہو جاتی ہے تو انہیں واپس عراق جانا پڑے گا جہاں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

’ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اگر جرمنی انکار کر دیتا ہے تو ہمارے پاس واپس عراق چلے جانے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

اسامہ عبدالمحسن، 15 ستمبر 2015

’اب میں اس واقعے کو بھول چکا ہوں اور میری توجہ اپنے خاندان اور بیٹے کے مستقبل پر ہے۔ شروع شروع میں جب میں یہاں پہنچا تھا تو میں شدید غصے میں تھا۔‘

شام سے تعلق رکھنے والے اسامہ عبدالمحسن فٹ بال کے کوچ ہیں اور جب ان کی تصویر کھیچی گئی تو انھوں نے اپنے بیٹے کو اٹھایا ہوا تھا اور وہ ہنگری کے پولیس اہلکاروں سے جان بچا کر بھاگ رہے تھے۔

لگتا تھا کے خاتون صحافی فوٹوگرافر نے جان بوجھ کر اسامہ کو ٹھوکر ماری تھی، تاہم اس و اقعے کے بعد خاتون نے معافی مانگ لی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایسا اپنے دفاع میں کیا تھا۔ اس تمام واقعے کو ایک جرمن صحافی نے اپنے ویڈیو کیمرے میں محفوظ کر لیا تھا جس کے بعد یہ ویڈیو پوری دنیا میں پھیل گئی۔

اُس وقت اسامہ کا کہنا تھا کہ اس خاتون کو کبھی معاف نہیں کریں گے جس نے انھیں گرایا تھا، لیکن اب اسامہ نے اپنا خیال بدل دیا ہے۔

اگرچہ مذکورہ خاتون کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا لیکن اسامہ کو سپین کے فٹ بال کلب نے اپنے ہاں نہ صرف ملازمت دے دی بلکہ انھیں ایک مکان بھی دیا۔

ریئل میڈرڈ نامی اس کلب نے اسامہ اور ان کے بیٹے زید کو اپنے ایک میچ میں مدعو کیا جہاں زید اپنے پسندیدہ کھلاڑی رونالڈو کے ہاتھ پکڑے ہوئے میدان میں آئے۔

اسامہ کے بقول ’یہ سب کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں تھا۔ میرے بیٹا کہتا تھا کہ کیا ’میں رونالڈو کو اپنے ہاتھ سے چھُو سکوں گا؟‘

میچ کے بعد رونالڈو نے اپٹی شرٹ زید کو تحفے میں دے دی اور زید کا اسرار تھا کہ وہ کسی دوسرے کھلاڑی سے اس وقت تک آٹوگراف نہیں لے گا جب تک رونالڈو اس شرٹ پر دستخط نہیں کر دیتے۔‘

اب جبکہ اسامہ اور اپنے دو بیٹوں کے ساتھ میڈرڈ میں ایک نئی زندگی شروع کر رہے ہیں، ان کی اہلیہ اور ان کے دو بچے ابھی تک ترکی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اسامہ کو امید ہے کہ سپین ان کی بیوی اور بچوں کو بھی اپنے ہاں پناہ دے دے گا۔

اسامہ کے لیے سب بڑی چیز وہ آزادی ہے جو انھیں یورپ میں نصیب ہوئی ہے۔ ’سوچ کی آزادی، اظہار کی مکمل آزادی۔ ایک آزاد آدمی ہونے کا احساس بہت خوبصورت احساس ہے۔ میں سپین کے لوگوں کی گرمجوشی دیکھ کر بھی حیران ہو گیا ہوں۔ ہر کوئی مدد کی پیشکش کر رہا تھا۔ میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔‘

محمد ضتارع، 4 ستمبر 2015

4 ستمبر کے دن محمد ضتارع ان ہزاروں تارکین وطن میں شامل تھے جنھیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہنگری میں ایک ریل گاڑی میں ٹھونس دیا گیا تھا اور ہنگری کے پولیس اہلکار انھیں یورپ میں داخل ہونے سے روک رہے تھے۔

’ہنگری میں چار دن تک پولیس کے خلاف لڑنے کے بعد میں نے تہیہ کر لیا کہ اب میں ریل گاڑی کی بجائے پیدل ہی شمالی یورپ کو روانہ ہو جاؤں گا۔‘

شام سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ محمد نے وہاں پر تقریباً ایک ہزار لوگوں کو قائل کر لیا کہ وہ سب بُوڈاپسٹ سے آسٹریا کی سرحد تک کا 180 کلومیٹر کا سفر پیدل ہی طے کریں گے۔

میں نے ان لوگوں سے کہا کہ ’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ آج ہم آٹھ گھنٹے پیدل چلیں گے اور کل بھی آٹھ گھنٹے پیدل چلیں گے۔‘

محمد نے تین صحافیوں کو قائل کیا کہ وہ ان کے سفر کی تصاویر اور وڈیوز بنائیں۔

محمد نے کہا تھا کہ ’ اگر کیمروں والے ہمارے ساتھ ساتھ چلیں گے تو پولیس ہم پر تشدد کرنے سے باز رہے گی۔‘

محمد اور ان کے ساتھیوں کے اس سفر کی تصاویر اور وڈیوز نے لوگوں کو ان سفری داستانوں کی یاد دلا دی جن کا ذکر الہامی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہ وڈیوز دنیا بھر میں براہ راست دکھائی جانے لگیں اور دیکھنے والوں کو جلد ہی احساس ہونے لگا کہ یورپ کو مہاجرین کی آمد کی شکل میں کس بحران کا سامنا ہے۔

آخر کار ہنگری کے حکام بھی ہار گئے اور انھوں نے اس قافلے کے لیے بسوں کا بندوبست کر دیا۔

محمد آج کل جرمنی میں ہی اپنی پناہ کی درخواست پر فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک عرصے سے جرمنی پہنچنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ ’جب میں چھوٹا بچہ تھا، میں اس وقت سے جرمنی آنا چاہتا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے گاڑیوں کا بہت شوق ہے، بی ایم ڈبلیو اور مرسیڈیز میری پسندیدہ کاریں ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں وہ فیکٹریاں دیکھوں جہاں یہ خوبصورت کاریں بنتی ہیں۔‘

ابھی تک محمد کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی ہے، لیکن محمد مہاجرین کے اس پیدل سفر میں اپنے کردار کو بھولے نہیں ہیں۔

’مجھے اپنے کردار پر فخر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دن میں اپنی یہ تصویر اپنے بچوں کو دکھاؤں۔ میں اپنے بچوں کو بتاؤں گا کہ ان کے باپ نے کیا کِیا تھا۔ میرے بچے یقیناً مجھ پر فخر کریں گے۔‘

اسی بارے میں