’طلاق کے خواہشمند پہلے مالیاتی امور کا جائزہ لیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ میں گذشتہ 20 مہینوں کے دوران طلاق لینے والے جوڑوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مالیاتی امور کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لیں۔

یہ مشورہ طلاق یافتہ جوڑوں کے حوالے سے آن لان ملنے والے ایک فارم کے بعد دیا گیا ہے جس میں کچھ مشکلات سامنے آئی تھیں۔

برطانیہ میں خاندانوں کے قوانین کی ماہر نکولا میتھیسن ڈوراں کا کہنا ہے کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں تمام جوڑے متاثر ہو سکتے ہیں اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ جوڑے اپنے مالیاتی امور کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لیں۔

طلاق کے برسوں بعد بھی ہرجانہ دینا پڑا

’طلاق کا ہرجانہ یا پرانا لاٹری ٹکٹ کیش کروانا‘

واضح رہے کہ یہ غلطی برطانیہ کی وزارتِ انصاف کے فارم ای میں سامنے آئی۔ یہ فارم انگلینڈ اور ویلز میں استعمال ہوتا ہے جس کے بعد اس کے اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کی وزارتِ انصاف نے اس معاملے پر فوری تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

برطانیہ کی وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود اس فارم پر یہ غلطی اپریل سنہ 2014 سے موجود تھی جس کے بعد اسے رواں ماہ کے شروع میں درست کر دیا گیا ہے۔

اس سے صرف آن لائن فارم ای کے پیراگراف 2.20 کے کچھ ورژن متاثر ہوئے ہیں، اس میں وہ لوگ شامل ہیں جنھوں نے اپنی طلاق کے معاملات خود طے کیے تھے کیونکہ بہت سے وکیل اپنا حساب کتاب مختلف سافٹ ویئر کی مدد سے کرتے ہیں۔

تاہم نکولا میتھیسن ڈوراں جو برطانیہ کے علاقے برکشائر میں فیملی لا کلینک میں بطور ماہر کام کر رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ اثاثوں کا تخمینہ لگانا ’اس عمل کا نازک مرحلہ‘ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ طلاق لینے والے جوڑے متاثر ہونے کے بجائے اپنے مالیاتی امور کا احتیاط سے ساتھ جائزہ لیں۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام کو بتایا: ’یہ مسئلہ صرف مقدمے کے فریق کا ہے، ایسے افراد جو طلاق کے معاملات میں وکیلوں کی خدمات حاصل نہیں کرتے یا پھر وہ جو وکیلوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں لیکن اس ای فارم کا مخصوص ورژن استمعال کرتے ہیں کےساتھ پیش آتا ہے۔‘

نکولا میتھیسن کا کہنا ہے کہ وہ طلاق لینے والے جوڑوں کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ پہلے فارم ای کو دیکھیں کہ اس پر کون سا ورژن موجود ہے۔

انھوں نے طلاق لینے والے جوڑوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس فارم کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد وکیلوں یا وزارتِ انصاف سے رابطہ کریں۔

برطانیہ کی وزارتِ انصاف کی ویب سائٹ پر موجود اس غلطی کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ میں گذشتہ 20 کے دوران طلاق لینے والے جوڑوں کو اپنے مالیاتی امور کے لیے دوبارہ بات چیت شروع کرنے پڑے گی۔

بی بی سی کے قانونی نامہ نگار کلائیو کول مین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معلوم نہیں کہ کتنے جوڑے اس سے متاثر ہو چکے ہیں تاہم انگلینڈ اور ویلز میں ہر سال کم سے کم 1,20,000 جوڑے طلاق لیتے ہیں۔

اسی بارے میں