مجبوراً نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption روزانہ تقریباً 4600 لوگ اپنے آبائی ممالک سے نقل مکانے کرنے پر مجبور ہیں

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال دنیا بھر میں اپنے آبائی ممالک سے زبردستی نقل مکانے کرنے پر مجبور لوگوں کی تعداد چھ کروڑ سے ’کہیں زیادہ‘ بڑھ جائے گی۔

مزید 163 شامی پناہ گزینوں کی کینیڈا آمد

ترکی اور یورپی یونین میں تارکینِ وطن کے معاملے پر معاہدہ

پناہ گزین کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر کی ایک رپورٹ کے مطابق ’ہر 122 افراد میں سے ایک کو اپنے ملک سے زبر دستی منتقل ہونا پڑ رہا ہے۔‘

یو این ایچ سی آر نے مزید کہا ہے کہ ان پناہ گزینوں کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ ہے جو کہ سنہ 1992 کے بعد سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافے کی وجوہات شام اور یوکرائن میں جنگ اور دیگر تنازعات ہیں۔

یہ اعداد و شمار 2015 کے ابتدائی چھ مہینوں میں لیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نقل مکانی کرنے والے پناہ گزین زیادہ تر اپنے ہمسایہ ممالک کی جانب سفر کر کے وہاں پر رہتے ہیں

افغانستان، صومالیہ اور جنوبی سوڈان میں بھی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد نے نقل مکانی کی ہے۔

اس کے علاوہ برنڈی، جمہوریہ وسطیٰ افریقہ، کونگو اور عراق میں بھی شدید تنازعات پیش آنے کی وجہ سے کئی افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی۔

سنہ 2014 میں پناہ گزینوں کی جانب سے دیگر ممالک میں پناہ لینے کی درخواستوں میں 78 فیصد اضافہ ہوا جبکہ آئی ڈی پیز کی تعداد تین کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ گئی۔

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے سربراہ آنٹونیو گٹریز نے ایک بیان میں کہا: ’زبردستی کروائی جانے والی نقل مکانی ہماری دنیا کو بہت متاثر کر رہی ہے۔ اپنا سب کچھ کھو دینے والے لوگوں کو اس سے پہلے رواداری، ہمدردی اور یکجہتی کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی کہ اب ہے۔‘

رپورٹ کا مزید کہنا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے متصل ترقی پذیر ممالک کو پناہ گزینوں کا بوجھ زیادہ اٹھانا پڑتا ہے۔

رواں سال یورپ میں سب سے زیادہ پناہ لینے کی درخواستیں جرمنی میں دی گئیں جو کہ اب تک ایک لاکھ 59 ہزار تک پہنچ چکی ہیں۔

اسی بارے میں