موصل میں دولتِ اسلامیہ کا بڑا حملہ پسپا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انتہاپسندوں نے عراق میں کرد پیش مرگہ فوج پر بدھ کو رات گئے حملے کیے جن میں مشین گنوں، کار بموں، راکٹوں اور بلڈوزروں کا استعمال کیا

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کرد فوج نے اتحادی افواج کی فضائی مدد کے ذریعے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کی جانب سے پانچ ماہ میں کیے جانے والے سب سے بڑے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عراق کے شہر موصل کے قریب مختلف مقامات پر دولتِ اسلامیہ نے بدھ کو حملے کیے۔

کرد فوج کی سنجار میں کارروائی

کردوں کا کرکوک پر کنٹرول

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح تک جاری رہنے والے حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے 180 جنگجو ہلاک ہوئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ایک برس سے موصل دولت اسلامیہ کے کنٹرول میں ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ انتہاپسندوں نے عراق میں کرد پیش مرگہ فوج پر بدھ کو رات گئے حملے کیے جن میں مشین گنوں، کار بموں، راکٹوں اور بلڈوزروں کا استعمال کیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کے ترجمان کرنل سٹیون وارن نے بتایا ہے کہ موسمِ گرما سے اب تک دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیا جانے والا یہ سب سے بڑا حملہ تھا جسے پیش مرگہ نے ناکام بنا دیا۔

بریگیڈیئر جنرل مارک اوڈم عراق میں امریکہ کے سینیئر افسر ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ان کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ حملہ شاید موصل کا کنٹرول واپس لینے کے منصوبے میں رخنہ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔

دولتِ اسلامیہ نے جن مقامات کو نشانہ بنایا ان میں بشیقہ بھی شامل ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ترک فوج نے عراق سے تعلق رکھنے والے کردوں کو تربیت دی تھی جس کی وجہ سے عراق اور ترک حکومت کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 ممبران نے دولتِ اسلامیہ کے فنڈز روکنے کے لیے جمعے ہی کو ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔

اسی بارے میں