’شام کے لیے اقوام متحدہ کا منصوبہ ایک سنگِ میل ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کیری کا کہنا تھا کہ اس قرارداد سے سب کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ شام میں قتل و غارت روکنے کا وقت آگیا ہے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ شام کے لیے اقوام متحدہ کا منصوبہ وہاں ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’سنگِ میل‘ ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اس منصوبے نے شامیوں کو جنگ اور امن کے درمیان’حقیقی چناؤ۔۔‘ دیا ہے۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعے کو نیویارک میں منعقدہ اجلاس میں متفقہ طور پر شام میں قیامِ امن کے اس نقشۂ راہ کی توثیق کر دی ہے جس میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات اور فائربندی شامل ہے۔

’امن عمل کی توثیق کے لیے اقوام متحدہ میں قرارداد لائیں گے‘

شام میں امن، سعودی دباؤ کتنا کارآمد؟

شامی حکومت کو ’دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں‘

سلامتی کونسل کی اس قرارداد میں شام کے مستقبل میں بشارالاسد کے کردار پر کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے حوالے سے کوئی متفقہ رائے سامنے آئی ہے۔

مغربی ممالک شامی صدر سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ روس اور چین سمجھتے ہیں کہ شام امن مذاکرات کے آغاز کے لیے یہ پیشگی شرط ضروری نہیں کہ بشارالاسد اپنا عہدہ چھوڑیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے قرارداد کی منظوری کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر اسد ملک کو متحد رکھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ صدر اسد سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ جنگ کو طویل کر رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ رکاوٹیں کیا ہیں اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے اور بین لاقوامی برادری میں صدر اسد کے مستقبل کے حوالے سے بھی اتفاق نہیں۔ مگر امریکی وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ مغرب اور عرب اقوام اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ شامی صدر کو انتقالِ اقتدار کے عمل کے خاتمے تک موجود رہنا چاہیے۔

لیکن دوسری جانب فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ بشار الاسد کا انتخابات میں کھڑا ہونا نامنظور ہے۔

ادھر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ چھ ماہ میں شام میں اتحادی حکومت پر معاہدہ طے پا جائےگا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

قرارداد کے اہم نکات:

  • قرارداد میں فائر بندی اور جنوری میں سیاسی منتقلی کے لیے باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
  • دولتِ اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ جیسے گروہوں کے خلاف حملے اور مدافعانہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ایسے گروپوں کے خلاف کارروائیاں متاثر نہیں ہوں گی جنھیں دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ اس طرح روس، فرانس اور امریکہ شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا سکیں گے۔
  • جنگ بندی کو کیسے مانیٹر کرنا ہے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون 18 جنوری تک رپورٹ فراہم کریں گے۔
  • چھ ماہ کے اندر قابلِ اعتماد اور غیر فرقہ وارانہ حکومت قائم کی جائےگی۔
  • 18 ماہ کے اندر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور شفاف انتخابات کروائے جائیں گے۔
  • شام کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں تقریباً پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اس قرارداد کو شامی حکومت کے حامی اور مخالف دونوں ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کے عمل کے ساتھ ساتھ ہی فائر بندی بھی کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

فریقین کے حامی ممالک ان رکاوٹوں کو بھی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس بحران کے حل میں حائل ہیں۔

ان مسائل میں شام کے صدر بشار الاسد کے مستقبل کا فیصلہ، کون سے گروہ شامی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہو سکتے ہیں اور کن گروہوں کو دہشت گرد قرار دینا ہے، شامل ہیں۔

سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ کس گروپ کو دہشت گرد قرار دیا جائے اور مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے۔ اردن کو ایسے گروپوں کی فہرست تیار کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔

سیاسی منصوبے کی حدود کا تعین ویانا میں انٹرنیشنل سیریئن سپورٹ گروپ کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے لیے یہ سب سے ٹھوس منصوبہ ہے جس میں واضح ٹائم ٹیبل دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں