چین کا امریکہ پر سنگین اشتعال انگیزی کا الزام

Image caption چین نے سنہ 2013 میں سپارٹلی میں سمندری چٹانوں کے ایک باہمی متصل سلسلے کو جزیرے کی شکل دی تھی

چین نے امریکی جنگی جہاز کی جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع جزائر سپارٹلی کے قریب پرواز کو سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

10 دسمبر کو پیش آنے والے اس واقعے کے دوران چین کی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تھا اور امریکی طیارے کو وارننگ جاری کی گئی تھی۔

’امریکی جہاز جنوبی بحیرۂ چین سے گزرتے رہیں گے‘

بحیرۂ جنوبی چین میں مداخلت سے باز رہیں: چین

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وہ چینی شکایت کا جائزہ لے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین کا جنوبی بحیرۂ چین کے ایک بڑے حصے پر دعویٰ ہے جس کے باعث کچھ ہمسائیہ ممالک کے ساتھ اس کا علاقائی تنازع چلا آ رہا ہے۔

اکتوبر میں ایک امریکی بحری جہاز کے ان جزائر کے قریب سے گزرنے پر بھی چین نے شدید احتجاج کیا تھا۔

سنیچر کو چینی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ان جزائر کے اوپر سے اپنے جنگی جہاز کی پرواز کر کے جان بوجھ کر علاقے میں کشیدگی پھیلا رہا ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت علاقے میں دو امریکی B 52 جنگی جہاز ایک مشن پر اڑ رہے تھے اور خراب موسم کے باعث ایک جہاز جزائر کے قریب چلا گیا۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ پروازیں ’سنگین فوجی اشتعال انگیزی کے مترادف ہیں اور جنوبی بحیرۂ چین میں صورتحال کو پیچیدہ کرنے کے ساتھ علاقے میں فوجی نقل وحرکت میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔‘

چین نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو پیش آنے سے روکا جائے۔

خیال رہے کہ چین نے سنہ 2013 میں سپارٹلی میں سمندری چٹانوں کے ایک باہمی متصل سلسلے کو جزیرے کی شکل دی تھی۔

چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک پریشان ہیں۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

اسی بارے میں