کولمبیا کے ’کرائے کے فوجی‘ یمن روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یمن میں اس وقت سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل سے برسرپیکار ہے

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے یمن میں لڑنے کے لیے کولمبیا سے تعلق رکھنے والے تین سو تجربہ کار ’کرائے کے سپاہی‘ بھرتی کیے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ انھیں ذرائع نے بتایا ہے کہ ان افراد کو بھاری معاوضے کے عوض بھرتی کیا گیا ہے۔

یمن: متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی ہلاک

’پاکستان کو مبہم موقف کی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی‘

’اماراتی وزیر کا بیان پاکستانیوں کی عزتِ نفس کی ہتک ہے‘

اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے یہ افراد اپنے ملک میں بائیں بازو کے جنگجوؤں اور منشیات کے سمگلروں سے لڑنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔یمن میں حوثی قبائل سے جنگ میں مصروف متحدہ عرب امارات کی اپنی افواج ناتجربہ کار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان تجربہ کار کرائے کے سپاہیوں کو بھرتی کیا گیا ہے۔

کولمبیا کے ایک سابق فوجی افسر کا اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ کولمبیا کے فوجی غیر روایتی جنگ لڑنے میں تجربے کے باعث قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، ان کے پاس گوریلا جنگ لڑنے کا وسیع تجربہ ہے۔‘

اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے حوثی جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے کولمبیا سے تعلق رکھنے والے کئی سو کرائے کے سپاہی یمن بھیجے ہیں۔

اخبار کے مطابق متحدہ عرب امارات گزشتہ پانچ برس سے غیرملکیوں پر مشتمل فوج تشکیل دینے میں مصروف ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ان فوجیوں کی جنگی تعیناتی کی گئی ہو۔

اے ایف پی کے مطابق ان فوجیوں کی تعیناتی یمن میں حوثی جنگجوؤں کی اس کارروائی کے بعد کی گئی ہے جس میں متحدہ عرب امارات کے 45 فوجی مارے گئے تھے۔

خیال رہے کہ یمن میں اس وقت سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد ایران کے حمایت یافتہ حوثی قبائل سے برسرپیکار ہے اور کولمبیا کے فوجیوں کی یمن میں موجودگی نے اس ساری صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں