رومن دیوی کی پولینڈ واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کلکٹر کا کہنا ہے کہ ان کے دادا نے اس مجسمے کو عالمی جنگ کے بعد تباہ حال شہر وارسا میں سفر کے دوران خریدا

روم کی دیوی ڈایانا کا مجسمہ جسے نازیوں نے لوٹ لیا تھا، 75 برس بعد پولینٹد کو واپس کر دیا گیا ہے۔

اٹھارویں صدی کا یہ مجسمہ سنہ 1940 میں نازیوں نے قبضے میں لے لیا تھا مگر اس کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا کہ یہ کہاں ہے۔

تاہم رواں سال کے شروع میں جب آسٹریا کے دارالحکومت وِیانا میں ایک نیلامی کے دوران یہ مجسمہ نظر آیا تو ماہرین کو معلوم ہوا کہ یہ وہی گمشدہ مجسمہ ہے۔

ایک نجی کلکٹر جنھوں نے اس مجسمے کو نیلامی کے لیے رکھا تھا، نے اجازت دے دی ہے کہ اسے ہمیشہ کے لیے پولینڈ کے دارالحکومت وارسا بھیج دیا جائے۔

کلکٹر نے کہا کہ ان کے دادا نے اس مجسمے کو اس وقت خریدا تھا جب عالمی جنگ کے بعد وہ تباہ حال شہر وارسا میں سفر کر رہے تھے۔

پولینڈ کی حکومت کا اندازہ ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے اب تک تقریباً 63 ہزار فن پارے گمشدہ ہیں۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے کہا ہے کہ رواں سال سات فن پارے واپس ملے ہیں لیکن پولینڈ کے وزیرِ ثقافت مسٹر گلِنسکی کے مطابق سویڈن کی حکومت کے ساتھ ان اشیا کی واپسی جو سترہویں صدی میں پولینڈ پر حملے کے وقت چلی گئی تھی پر بات چیت مشکل ثابت ہو رہی ہے۔

پولینڈ کے آخری بادشاہ سٹینسلا آگسٹ پونیاٹوسکی نے فرانسیسی سنگ تراش جِین اینٹوئن ہاؤڈون کے بنائے ہوئے مجسمے کو اٹھارویں صدی کے آخر میں خریدا تھا۔

خیال کیا جا رہا تھا کہ اس مجسمے کی نیلامی دو لاکھ 50 ہزار یوروز کے قریب ہوگی اور اس کی واپسی کے لیے کئی ماہ تک مذاکرات ہوتے رہے تھے۔

پولینڈ کے وزیرِ ثقافت مسٹر پیوٹر گِلنسکی جو اس مجسمے کو ایک ’شاہکار‘ قرار دیتے ہیں،کا کہنا ہے کہ ’رومن دیوی کی ہمارے پاس واپسی کمال کی بات ہے۔‘

یہ مجسمہ وارسا کے لیزیانکی محل میں رکھا جائے گا جہاں پولینڈ کے آخری بادشاہ رہائش پذیر تھے۔

اسی بارے میں