شراب پی کر ہسپتال جانے والوں میں ’زیادہ خواتین‘

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

کثرتِ شراب کے باعث ہسپتال پہنچنے والوں کی تعداد گذشتہ چھ برسوں میں دو گنا ہو گئی ہے، جن میں سب سے زیادہ تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔

انگلینڈ میں گذشتہ نو برسوں میں جگر کی بیماریوں سمیت زیادہ شراب پینے والی بیماریوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ لوگ ہنگامی حالت میں ہسپتال منتقل ہوتے ہیں۔

ایک خیراتی تنظیم ’نفیلڈ ٹرسٹ‘ سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق زیادہ شراب پینے سے لاحق بیماریوں کی زیادہ شرح شمالی انگلینڈ، غریب ترین علاقوں اور 45 سے 64 سالہ مردوں میں پائی جاتی ہے۔

شراب کئی صدیوں تک دوا سمجھی جاتی رہی

عالمی پیمانے پر شراب کی پیداوار میں کمی

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے سستی شراب کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اعداد و شمار کے مطابق زیادہ شراب پینے سے بیمار ہونے والے لوگوں کا زیادہ تر تعلق انگلینڈ کی آبادی کے غریب ترین 20 فیصد حصے سے ہوتا ہے

دا نفیلڈ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ان کے اعداد و شمار شراب پینے کے اثرات کی اصل مقدار سے کم ہیں کیونکہ ان میں شراب پینے کے بعد گرنے اور لڑائی جھگڑے کے واقعات شامل نہیں کیے جاتے ہیں اور صرف شراب سے منسلک بیماریوں ہی کو شامل کیا جاتا ہے۔

نفیلڈ ٹرسٹ نے مزید کہا کہ وہ ان لوگوں کو بھی اپنے اعداد و شمار میں شامل نہیں کرتے ہیں جو شراب پی کر نشے کی حالت میں ’حادثات اور ایمرجنسی‘ وارڈز میں آتے ہیں لیکن انھیں طبی علاج فراہم کیے بغیر ہی واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے۔

حادثات اور ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے تمام لوگوں میں سے آدھے کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے آتے ہیں۔

ان قسم کے واقعات زیادہ تر رات کو اختتام ہفتے کے دوران پیش آتے ہیں۔

نفیلڈ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ تین سے لے کر چار لوگوں کو ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لانا پڑتا ہے جس سے پہلے سے ہی کم وسائل پر زیادہ بوجھ پڑتا ہے۔

زیادہ شراب پینے پر ہسپتال پہنچنے والی 15 سے 19 سالہ لڑکیوں کی تعداد اپنے ہم عمر لڑکوں کے مقابلے میں 1.4 گنا زیادہ تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق زیادہ شراب پینے سے بیمار ہونے والے لوگوں کا زیادہ تر تعلق انگلینڈ کی آبادی کے غریب ترین 20 فیصد حصے سے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں