پولینڈ: دہشت گردی کے منصوبے پر پروفیسر کو سزا

پروفیسر کویئچن تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پولینڈ کے میڈیا کے مطابق یہ پولینڈ کے پہلے باشندے ہیں جن پر دہشت گردی کا مقدمہ چلایا گیا ہے

پولینڈ میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کو آتش گیر مادے سے بھری گاڑی پارلیمان کی عمارت سے ٹکرانے کا منصوبہ بنانے کے جرم میں 13 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

48 سالہ برونن کویئچن کو دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دو طالب علموں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولینڈ کے انٹیلیجنس ایجنٹوں نے انھیں استعمال کیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ کویئچن ناروے میں بڑے پیمانے پر قتل کرنے والے آندرے بیہرنگ برویک سے بڑے متاثر تھے۔

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بریوک نے جولائی 2011 کو ناروے میں اندھا دھند فائرنگ سے 77 افراد کو قتل کر دیا تھا۔

کراکوف کی زرعی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر کویئچن کو 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

مقدمے کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ کویئچن کا منصوبہ تھا کہ چار ٹن آتش گیر مادے سے پارلیمان کو اس وقت نشانہ بنایا جائے جب اس کے وقت کے صدر برانیسلا کوموراؤسکی اور سابق وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک وہاں آنے والے ہوں۔

حملے کی منصوبہ بندی کے الزام کو تسلیم کرتے ہوئے کویئچن نے کہا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکاروں نے انھیں اس کے لیے اکسایا تھا۔

پولینڈ کے میڈیا کے مطابق کویئچن پولینڈ کے پہلے باشندے ہیں جن پر دہشت گردی کا الزام لگایا گیا ہے۔ ابھی تک ان کے کسی انتہا پسند گروہ سے روابط کا سراغ نہیں مل سکا۔

اسی بارے میں