عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ عراقی افواج خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے جنگجوؤں کو رمادی شہر سے نکالنے کے لیے شہر کے مرکز کی طرف پیش قدمی کر رہی ہیں۔

عراق: رمادی کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

رمادی کے اہم ڈسٹرکٹ پر عراقی فوج کا دوبارہ ’کنٹرول‘

سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عراقی افواج جنھیں سنی قبائیلیوں اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی مدد حاصل ہے نے پہلے ہی دو ضلعوں پر دوبارہ کر لیا ہے اور وہ دوسرے دو ضلعوں میں داخل ہو گئی ہیں۔

سکیورٹی حکام کے مطابق عراقی افواج حکومت کے مرکزی کمپلیکس کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور انھیں سنائیپرز اور خود کش بمباروں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے مئی میں عراقی فوج کو ہتک آمیز شکست دے کر رمادی پر قبضہ کیا تھا۔

گذشتہ ماہ حکومت کی فورسز نے رمادی شہر پر اپنا مکمل محاصرہ کر لیا تھا جس کی وجہ سے اس میں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

عراقی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عثمان الغنامی نے پیر کو سرکاری ٹی وی چینلوں کو بتایا تھا کہ ’رمادی کے محاصرے کے ساتھ ساتھ علاقوں سے دولتِ اسلامیہ کی صفائی‘ نزدیک تھی۔

منگل کی صبح کو عثمان الغنامی نے کہا کہ عراقی فوج، سنی قبائلیوں اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی مدد سے انسدادِ دہشت گردی کی فورسز نے رمادی کا محاصرہ شروع کیا تھا اور حکومت کے کمپلیکس کی جانب پیش قدمی کر رہے تھے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم مختلف راستوں سے رمادی کے مرکز کی جانب بڑھے اور ہم نے رہائشی علاقوں کو صاف کرنا شروع کر دیا۔‘

عثمان الغنامی نے کہا: ’آنے والے 72 گھنٹوں میں شہر خالی کروا دیا جائے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ہمیں سنائیپرز اور خود کش بمباروں کا سامنا کرنا پڑا جس کی ہم پہلے سے ہی امید کر رہے تھے۔

عراقی فوج کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انجینئروں نے دریائے فرات کے اوپر عارضی پُل بنائے ہوئے تھے جو شہر کے شمال اور مغرب کی جانب واقع ہیں جس کی وجہ سے ہماری افواج براہِ راست ضلع الحوض میں داخل ہو گئیں جو حکومت کے مرکزی کمپلیکس کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔

ذرائع کے مطابق عراقی افواج نے منگل کی دوپہر تک الخوبات اور العرامل ضلعوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور اس کے بعد وہ الملاب اور باقر نامی ضلعوں میں داخل ہو گئیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رمادی میں 600 سے لے کر 1,000 کے قریب دولتِ اسلامیہ کے جنگجو موجود ہیں۔

وزارت دفاع نے پیر کو کہا تھا کہ گذشتہ ماہ حکومت نے رمادی کے رہائشیوں کو آخری دفعہ ہدایت دی تھی کہ وہ محاصرے سے پہلے شہر چھوڑ دیں تاہم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے ہزاروں خاندانوں کو شہر چھوڑنے سے روکنے کے لیے یرغمال بنایا ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے حکومت کے ایک ترجمان نصیر نوری نے کہا: ’شدت پسند شہریوں کو انسانی ڈھالوں کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے شہری اس وقت خطرے میں ہیں۔

اسی بارے میں