ملالہ کی ’شام کی ملالہ‘ سے ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیو کاسٹل لائبریری میں ملالہ اور مزون کی ملاقات ہوئی

شمالی انگلینڈ کی ایک لائبریری میں اپنےسامنے جامنی صوفے پر بیٹھی دو مسکراتی ہوئی نوجوان لڑکیوں کی طرف دیکھتے ہوئے میں نے ازراہ مزاق کہا ’کیا دو ملالہ ایک ملالہ سے بہتر ہیں؟‘

اس جملے پر دونوں ہی ہلکے سے ہنس دیں۔

18 سالہ ملالہ یوسفزئی نے فوراً کہا ’یا دو مزون۔‘ 17 سالہ مزون الملہان نے اپنی گود میں رکھے ہاتھ کو متانت کے ساتھ پکڑا اور قدرے شرماتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کی مہم چلانے والی دنیا کی سب سے معروف لڑکی کی طرف دیکھا جو اب ان کی اچھی دوست بھی بن گئی ہے۔

ایک سرد برسات کے دن دونوں خاندان نیو کاسٹل لائبریری میں ایک بار پھر مل رہے ہیں۔ شیشوں کی دیواروں والا یہ کمرہ مزون کے نئے گھر برطانیہ کا ایک وسیع اور دلکش نظارہ پیش کر رہا ہے۔ مزون کا خاندان شام کی سرحدوں پر بنی پناہ گزین خیمہ بستیوں سے برطانیہ پہنچنے والا پہلا شامی خاندان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب وہ دونوں اچھی دوست بن گئی ہیں

پاکستان میں طالبان کے قاتلانہ حملے میں بچ جانے والی نوجوان پاکستانی لڑکی دو سال قبل اردن سے ملنے والی شامی سرحدوں پرجنگ سے دور جانے کی کوشش کرنے والے پناہ گزینوں سے ملیں تو وہاں انھوں نے ’شام کی ملالہ‘ کا ذکر سنا۔

نوجوان مزون ان خیمہ بستیوں میں ایک ایک ٹریلر اور خیمے میں جا کر پریشان والدین پر زور ڈال رہیں تھیں کہ وہ جلد از جلد اپنی نو عمر بیٹیوں کی شادی کرنے کے بجائے انھیں تعلیم دلوائیں۔

دو مختلف واقعات نے ان دونوں نو عمر بچیوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل دی تھیں۔ اب یہ دونوں برطانیہ میں سکول جانے والی لڑکیاں ہیں جن کی زندگیاں پھر سےتبدیل ہو رہی ہیں۔

ملالہ کہتی ہیں ’ہم نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے اور انھیں اپنی حق کے لیے کھڑا ہونے کی ہمت دینے کے لیے ’ملالہ مزون فوج‘ بنانا چاہتےہیں۔ ہم ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے، اور اب ہم ایسا کر سکتے ہیں۔‘ مزون بھی ان کی حمایت میں سر ہلاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملاقات کے دوران ضیاالدین یوسف زئی اور رکان عربی مترجم کی مدد سے محو گفتگو رہے

شامی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ان کا اگلے منصوبے پر کام کا آغاز لندن میں اگلے سال ابتدائی فروری میں ایک اہم امداد کانفرنس کے دزیعے شروع کیا جائے گا۔

نوبل انعام یافتہ تعلیم کے لیے مہم چلانے والی نوجوان ملالہ اپنی شامی دوست کی تعریف میں بخل سےکام نہیں لیتیں جو ان سے عمر میں تھوڑی چھوٹی ہیں اور امداد کی دنیا میں ناتجربہ کار ہیں۔

ملالہ یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’میں اردن میں ایک پناہ گزین کیمپ میں سکول جانے والی بچیوں کے ساتہ تھی جب ایک بچی نے مجھ سے کہا: ’آپ سے ملاقات کی مجھے بہت خوشی ہے، لیکن وہ آپ نہیں بلکہ مزون تھیں جنھوں نے تعلیم کے حصول کےلیے میری حوصلہ افزائی کی تھی۔‘

ملالہ خیمہ بستیوں کی حالت یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’خیمہ بستیوں کے بہت برے حالات تھے، ایسی جگہ جو موسم گرما میں انتہائی گرم اور سرما میں انتہائی سرد ہوجاتی ہے وہاں بجلی بھی نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایمان الملہان اور تورپکئی یوسفزئی بھی موجود تھیں

مزون ایک یکسر مختلف معاشرے میں شروع ہونے والی اپنی نئی زندگی کے بارے میں کہتی ہیں کہ ’جب آپ کسی چیز کا نئے سرے سے آغاز کرتے ہیں تو یہ بہت مشکل عمل ہوتا ہے۔‘

انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنا ان کے اہداف میں شامل ہے تاکہ وہ ’ملالہ کے ساتھ ہر موضوع پر بات کر سکیں‘ اور صحافی بننے کا اپنا خواب پورا کر سکیں۔

دونوں لڑکیاں قدامت پسند مسلمان گھرانوں میں پلی بڑھی ہیں، جبکہ دونوں ہی کے والد درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور انھوں نے اپنی صاحبزادیوں کو بھی تعلیم سے محبت سکھائی ہے۔

ایک طرف دونوں لڑکیاں آپس میں بات چیت کر رہی تھیں تو دوسری طرف ان کے والد ضیاالدین یوسف زئی اور رکان عربی مترجم کی مدد سے محو گفتگو تھے۔

شامی پناہ گزینوں کو درپیش مشکلات اور یورپ میں محفوظ ٹھکانوں کی تلاش بھی ملالہ کو پریشان کرتی نظر آتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ملالہ یوسفزئی کے امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات بھی ہوئی تھی

40 لاکھ پناہ گزینوں کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ پناہ گزینوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘

وہ مسکراتی ہوئے تسلیم کرتی ہیں کہ ’میں نے اصل میں کیلکولیٹر نکال کے حساب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی اتنی تعداد ہے، اور اگر ہر ملک 50 ہزار کے قریب یا پھر 25 ہزار پناہ گزینوں کو اپنےہاں جگہ دے تو ہم یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔‘

میں نے نشاندہی کی کہ برطانیہ جیسے ممالک جنھوں نے 20 ہزار شامی پناہ گزینوں کو اگلے پانچ سالوں میں پناہ دینے کا وعدہ کیا ہے، کہتے ہیں کہ وہ اس سے زیادہ افراد کو پناہ دینے کے اخراجات نہیں اٹھا سکتے۔‘

ملالہ اپنی بات پہ اصرار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’میں یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ برطانیہ کی معیشت اس وقت کہاں کھڑی ہے لیکن ایک بات کا مجھے یقین ہے، کم از کم ہم لوگوں کی مدد ضرور کر سکتے ہیں۔‘

مزون کی نظر میں نوعمری کی شادیاں اہم ترین مسائل میں شامل ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پناہ گزین نو عمر لڑکیوں کی شادیوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملالہ پاکستانی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ہیں

مزون بتاتی ہیں کہ ’ان کی روایات اور تعلیمات کی وجہ سے زیادہ تر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بیٹیوں کی نو عمری میں شادی کرکے وہ ان کا مستقبل محفوظ بنا رہے ہیں۔

’وہ ان کی تعلیم روک رہے ہیں کیونکہ انھیں اس بات کااحساس نہیں ہے کہ اپنی بیٹیوں کو محفوظ بنانے کا سب سے بہترین طریقہ انہیں تعلیم کے زیور سےآراستہ کرنا ہے۔‘

کم عمری کے باوجود ان دونوں لڑکیوں کے مقاصد سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ان کی باتیں سمجھ میں آنے والی ہیں۔

ملالہ کہتی ہیں ’اگر ہم امید کرتے ہیں کہ شام کو ایک بار پھر اس کے قدموں پر کھڑا کریں گے، تو 20 لاکھ پناہ گزین بچوں کو تعلیم سے یکسر محروم کرکے ایسا ممکن نہیں ہوسکتا ۔

’ہم امید کر رہے ہیں کہ ہم مہم کا آغاز 2016 تک کریں گے، ہمیں امید ہے کہ اگلے سال تک جنگ ختم ہوجائے گی اور ایک بار پھر امن قائم ہوجائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مزون شامی لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں

مزون گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ہمیں اس بارے میں مثبت سوچ رکھنی چاہیے اور پُر امید ہونا چاہیے کے میرے ملک میں جنگ ختم ہوجائے گی۔‘

تاہم اس دوران لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مہم چلانے والی دونوں لڑکیوں کے پاس خاصا کام ہے، جس میں ان کے سکول کا ہوم ورک بھی شامل ہے۔

لائبریری کے ایک خاموش کونے کی جانب جاتے ہوئے دونوں سکول جانے والی لڑکیوں میں سے ملالہ مزون سے پوچھتی ہیں ’اس سال آپ کون سے مضامین کا انتخاب کر ہیں ہیں؟‘

یہ ایک نئے مکالمے کا محض آغاز ہے۔ اور اس کا کچھ حصہ یقیناً آنے والے دنوں میں دنیا بھر میں سنا جائے گا۔

اسی بارے میں