سرطان میں مبتلا پاکستانی طالب علم کے خاندان کو ویزا جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Ten Eyewitness News
Image caption حسن آصف کی دیکھ بھال اس وقت بے گھر افراد کا مرکز ملبرن سٹی مشن کر رہا ہے

آسٹریلیا میں حکام کی جانب سے جلد کے سرطان میں مبتلا موت کی جانب بڑھتے ہوئے ایک پاکستانی طالب علم کے خاندان کو ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔

امیگریشن کے وزیر پیٹر ڈٹن کا کہنا ہے کہ حسن آصف کی والدہ اور بھائی کو آسٹریلیا کا ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

حسن آصف کی جانب سے اپنی موت سے پہلے اپنے خاندان سے ملنے کی جذباتی خواہش کے اظہار نے دنیا بھر میں میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔

پیٹر ڈٹن کے دفتر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انھیں بدھ کی شام یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ حسن آصف کی والدہ اور بھائی کو ویزا جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

25 سالہ حسن آصف اپنی زندگی کے آخری مراحل ہیں اور وہ بیماری کے باعث پاکستان سفر کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

حسن عارف آسٹریلیا آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے تاہم جولائی میں ان میں جلد کے سرطان کی تشخیص ہوئی تھی۔

منگل کی شب حسن آصف نے نیٹ ورک ٹین کو بتایا: ’میں مر رہا ہوں اور درد کی وجہ سے یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ ایسے حالات میں ہر کوئی اپنے خاندان کے قریب رہنا چاہتا ہے۔‘

’میری ماں اس وجہ سے ہمیشہ روتی رہتی ہے، وہ ہمیشہ یہ امید لگائے رہتی ہیں کہ اس بار انھیں ویزا مل جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امیگریشن کے وزیر پیٹر ڈٹن کا کہنا ہے کہ حسن آصف کی والدہ اور بھائی کو آسٹریلیا کا ویزا جاری کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل آسٹریلیا کے شعبہ امیگریشن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ اس خاندان کی حالیہ درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔

تاہم بیان کے مطابق حسن آصف کا خاندان نئی درخواستیں دائر کر سکتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’درخواست گزار کا معینہ مدت سے زیادہ عرصہ یہاں ٹھہرنا یا آسٹریلیا میں مستقل طور پر قیام پذیر ہونے کے معاملے کی بھی جانچ بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر ہمدردانہ حالات میں، فیصلہ ساز کسی بھی مخصوص کیس کے حوالے سے تمام حقائق کو مدنظر رکھتا ہے۔‘

حسن آصف کی دیکھ بھال اس وقت بے گھر افراد کا مرکز ملبرن سٹی مشن کر رہا ہے۔

مرکز کے ڈائریکٹر شیریڈن بروئنہاؤٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ حسن آصف نے اگلے سال یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کرنا تھی تاہم کیموتھراپی کے باعث انھیں اپنی پڑھائی چھوڑنا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’حسن آصف اس وقت اپنی کچھ خواہشات پوری کر رہے ہیں جن میں ساحل پر اپنے پاؤں گیلے کرنا، فلمیں دیکھنے جانا اور میلبرن اکوئیریم دیکھنا شامل ہیں‘

انھوں نے بتایا کہ حسن آصف کا دائرہ احباب نسبتا محدود ہے کیونکہ ان کی توجہ پڑھائی پر مرکوز رہتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حسن آصف اس وقت اپنی کچھ خواہشات پوری کر رہے ہیں جن میں ساحل پر اپنے پاؤں گیلے کرنا، فلمیں دیکھنے جانا اور میلبرن اکوئیریم دیکھنا شامل ہیں۔

شیریڈن بروئنہاؤٹ نے مزید بتایا کہ وہ بدھ کی رات کو وہ حسن آصف کے ساتھ کرکٹ میچ کے لیے جارہی ہیں۔

حسن آصف اس وقت سات دیگر افراد کے ساتھ مشکل ترین حالات میں رہ رہے ہیں۔

شیریڈن بروئنہاؤٹ کا کہنا ہے کہ ’ان کا دیگر رہائشیوں پر حیرت انگیر اثر ہوا ہے اور ان کا زندگی کے بارے میں نکتہ نظر حیرت انگیز ہے۔‘

اسی بارے میں