قرآن کے قدیم ترین نسخے پر ماہرین کے مفروضے

مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن شریف کے ایک قدیم ترین نسخے کے چند صفحات جب اس برس موسم گرما میں برمنگھم یونیورسٹی سے ملے تو یہ خبر دنیا بھر کے اخبارات کی شہ سرخی بن گئی۔

اپنی نوعیت کے اعتبار سے قرآن شریف کے ایک قدیم نسخے کے صفحات کا ملنا جتنا غیرمعمولی تھا اتنا ہی حیران کن بھی۔

اس قدیم ترین نسخے کے ماخذ کے بارے میں بڑے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

خلیجی ممالک میں اب یہ کہا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر اس کو جتنی اہمیت دی جا رہی تھی اس سے یہ کئی گنا زیادہ معنی خیز اور اہم ہے اور اس نے ایک عالمی معمے کی صورت اختیار کر لی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ برمنگھم یونیورسٹی میں ملنے والے قرآن شریف کے صفحات 1370 سال پرانے ہیں اور یہ ایک زمانے میں مصر میں فسطاط میں واقع دنیا کی قدیم ترین مسجد عمر بن عاص میں رکھے ہوئے تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماہرین کو تقریباً یہ یقین ہو گیا ہے کہ یہ صفحات پیرس میں فرانس کی نیشنل لائبریری ’ببلیوتھک نیشونال دی فرانس‘ میں رکھے قرآن شریف کے صفحات سے ملتے ہیں۔

لائبریری اس بارے میں قرآن کے تاریخ دان اور کالج دی فرانس میں معلم فرانسوا دریچو کا حوالہ دیتی ہے جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برمنگھم میں ملنے والے صفحات اور پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات قرآن شریف کے ایک ہی نسخے کے ہیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کی دستاویزت میں قرآن شریف کے صفحات تلاش کرنے والے محقق البا فدیلی کا بھی یہی کہنا ہے کہ پیرس اور برمنگھم یونیورسٹی میں موجود صفحات ایک ہی نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات کے بارے میں علم ہے کہ یہ فسطاط میں مسجد عمر بن عاص کے قرآن شریف کے نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری کے صفحات انیسویں صدی کے اوائل میں نپولین کی فوج کے مصر پر قبضے کے دوران وہاں تعینات وائس کونسل ایسلین دی چرول یورپ لائے تھے۔

پروفیسر دریچو کا کہنا ہے کہ ایسلین دی چرول کی بیوہ نے یہ نسخہ اور کچھ اور قدیم دستاویزات برٹش لائبریری کو سنہ 1820 میں فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ پیرس کی نیشنل لائبریری کو مل گئے اور جب سے اب تک یہ وہیں محفوظ ہیں۔

اگر یہ نسخہ پیرس کی لائبریری کو مل گیا تو برمنگھم یونیورسٹی میں پائے جانے والے صفحات وہاں کیسے پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption نپولین کے دور میں بھی بہت سے دستاویزات کو مصر سے فرانس منتقل کیا گیا

پروفیسر دریچو کا کہنا ہے کہ انیسویں صدی ہی میں فسطاط کی مسجد سے یہ نسخہ قاہرہ کی نیشنل لائبریری میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی دوران کچھ حصے نکال لیے گئے اور جو بعد میں فروخت کر دیے گئے۔ قیاس یہی ہے کہ متعدد بار فروخت ہونے کے بعد یہ صفحات ایلفاس منگانا کے ہاتھ آئے اور وہ انھیں برمنگھم لے آئے۔ منگانا کا تعلق اشوریہ سےتھا جو جدید دور کا عراق ہے اور مشرق وسطی میں وہ نوادرات اکٹھا کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ جایا کرتے تھے جن کا خرچہ برطانیہ کا کیڈبری خاندان اٹھاتا تھا۔

پروفیسر دریچو کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی سرکاری شواہد موجود نہیں رہے لیکن اس طرح منگانا کو فسطاط کے خزینے کی چند دستاویزات ملی ہوں گی۔ منگانا کو انہی گراں قدر علمی خدمات کے عوض ’لیجن آف آنر‘ کا اعزاز دیا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سی ایسی نادر دستاویزات کا ابھی منظر عام پر آنا باقی ہے جو مغرب کے خریداروں کو فروخت کی گئیں۔

لیکن سب سے زیادہ جو چیز بحث کا باعث بنی ہوئی ہے وہ ان صفحات کی اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخیں ہیں۔

برمنگھم میں پائے جانے والے صفحات کے بارے میں سب سے زیادہ حیران کن بات’ کاربن ڈیٹنگ‘ کے طریقہ کار سے سنہ 568 اور سنہ 645 کے درمیان ان دستاویزات کی تاریخ کا تعین ہے۔

پیغمبر اسلام 632 میں فوت ہوئے تھے، جب کہ اس نسخے کی تحریر کی آخری تاریخ 645 عیسوی کی ہے، یعنی ان کی وفات کے صرف 13 برس بعد۔

برمنگھم یونیورسٹی میں عیسائیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ ٹامس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس شخص نے ان صفحات کو تحریر کیا وہ یقینی طور پر پیغمبر اسلام کو جانتا ہو گا۔

اسلام کے ابتدائی دور کی تاریخوں کا تعین ان ماہرین کی نفی کرتا ہے جنھوں نے ان صفحات کے رسم الخط اور گریمر کے اصولوں کی بنیاد پر تجزیہ کیا ہے۔

Image caption ڈاکٹر ٹامس کو کاربن ڈیٹنگ کے طریقہ کار پر تحفظات ہیں

لندن میں مشرقی اور افریقی علوم کے سکول میں اسلامی علوم کے شعبے سے وابستہ مصطفیٰ شاہ کا کہنا ہے کہ دستاویزات کا رسم الخط اور گریمر کی علامتوں سے لگتا ہے کہ یہ بعد کے دور میں لکھے گئے۔

عربی کے طرز تحریر کے ارتقا اور گریمر کے اصول میں تبدیلیوں کی بنیاد پر ڈاکٹر شاہ کے مطابق یہ صفحات ابتدائی دور کی تاریخوں سےمطابقت نہیں رکھتے۔

پروفیسر دریچو کو کاربن ڈیٹنگ سے تاریخوں کے تعین پر شدید تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سی دستاویزات جن کو لکھے جانے کی تاریخوں کے بارے علم تھا جب ان کی کاربن ڈیٹنگ کی گئی تو ان کے نتائج غلط نکلے۔

لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی کے ’ریڈیو کاربن ایکسریلٹر یونٹ‘ کے سٹاف کا کہنا ہے انھوں نے ان دستاویزات کی تاریخ کا جو تعین کیا ہے وہ بالکل درست ہے چاہے اس کو قبول کرنا کتنا دشوار ہیں کیوں نہ ہو۔

تحقیق کار ڈیوڈ شیول کا کہنا ہے کہ حالیہ برس میں تاریخ کے تعین کے طریقہ کار میں بہتری آئی ہے۔

برمنگھم کے قرآنی صفحات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعد کی تاریخ زیادہ درست ہیں لیکن جس دور کا تعین کیا گیا ہے اس کے پچانوے فیصد درست ہونے کا امکان ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی لیبارٹری نے اسی یقین کے ساتھ رچرڈ سوم کی ہڈیوں کی ڈیٹنگ کے بعد تاریخوں کا تعین کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں تاریخوں کے بارے میں اس سے زیادہ یقین نہیں ہو سکتا۔ علمی ماہرین کی رائے بھی اب بدل رہی ہے۔

ڈاکٹر شاہ کا کہنا ہے کہ 1990 تک مغرب میں اکثریتی خیال یہی تھا کہ اآٹھویں صدی تک قرآن شریف کا کوئی مکمل نسخہ موجود نہیں تھا۔

لیکن تحقیق نے اس اتفاق رائے کو بدل کر بالکل غلط ثابت کر دیا ہے، اور قرآن کی تاریخ کے بارے میں مسلمانوں کے عمومی عقیدے کو تقویت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اسلام کی قدیم ترین مسجد جو قاہرہ میں قائم ہے

پیرس میں رکھے ہوئے انہی صفحات سے ملتے جلتے صفحات کی کاربن ڈیٹنگ نہیں کرائی گئی جن سے یہ بحث اپنے منطقی انجام تک پہنچ سکتی ہے ۔

اگر برمنگھم کے قرآنی صفحات کی تاریخ درست ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟

برمنگھم کی یونیورسٹی سے صرف دو صفحات ملے ہیں اور پروفیسر ٹامس کا کہنا ہے کہ مکمل قرآن کے دو سو مزید صفحات ہونے چاہییں۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی یادگار قسم کا نسخہ ہو گا۔

اس سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کس نے اس قرآن کو تحریر کروایا ہو گا اور اس کے لیے وسائل مہیا کیے ہوں گے۔

متحدہ عرب امارات کے حاکموں کی طرف سے تعلیم کے فروغ کے لیے بنائے گئے ادارے محمد بن راشد المختوم فاونڈیشن کے مینجنگ ڈائریکٹر جمال بن حواریب کا کہنا ہے کہ اس ثبوت سے ایک اور شاندار نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ برمنگھم میں ملنے والے قرآنی صفحات قرآن شریف کے پہلے مکمل نسخے کے ہیں جو مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت ابوبکر صدیق نے 632 سے 634 تک کے مختصر دورِ خلافت میں مرتب کروایا۔

برمنگھم میں ان صفحات کو دیکھنے کے بعد جمال بن حواریب کا کہنا تھا کہ یہ مسلم دنیا کے لیے بہت بڑی دریافت ہے۔ ان کے خیال میں یہ حضرت ابوبکر کے قرآن کے صفحات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جس معیار کے پارچہ جات کا استعمال کیا گیا ہے اور جس طرز کی یہ تحریر ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اعلیٰ پائے کا کام ہے اور اس کو کسی انتہائی اہم شخصیت نے مرتب کروایا تھا۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسلام کے ابتدائی دور سے ہے۔

جمال بن حواریب نے کہا کہ یہ نسخہ، یہ کلیات اور یہ مسودہ اسلام اور قرآن کی جڑ سے ہے۔

یہ دریافت اسلام کی تعلیم اور تحقیق میں انقلاب ثابت ہو سکتی ہے۔

کچھ اور امکانات بھی ہو سکتے ہیں۔ ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے اس جانور کے انتقال کی تاریخ کا تعین ہوتا ہے جس کی کھال پر یہ تحریر کیا گیا نہ کہ تحریر کی اصل تاریخ کا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسودہ 645 کے بعد کا بھی ہو سکتا ہے اور پروفیسر ٹامس کا اصرار ہے کہ ممکنہ تاریخیں 650 اور 655 کے درمیان کی ہو سکتی ہیں۔

یہ 644 سے 656 کا وہی درمیانی دور ہے جب خلیفہ ثانی حضرت عثمان نے قرآن شریف کے نسخے مرتب کروائے جنھیں مخلتف علاقوں میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو بھیجے جانا مقصود تھا تاکہ پورے عالم اسلام میں ایک ہی قرآن ایک ہی ترتیب اور زبان سے رائج ہو۔

ان مفروضے کو حتمی طور پر مسترد یا منظور کرلینا ممکن نہیں ہے۔

شارجہ میں امریکن یونیورسٹی میں شعبے عربی میں ترجمے سے منسلک جوزف لمبارڈم نے کہا کہ اگر ابتدائی دور کی تاریخیں درست ہیں تو کسی مفروضے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس مفروضےکو بھی رد نہیں کریں گے کہ یہ اس نسخے کے حصے ہیں جو زید بن ثابت نے حضرت ابوبکر کے دور میں مرتب کیا۔

انھوں نے کہا یہ بھی ممکن ہے کہ یہ حضرت عثمان کے دور کے نسخے کی نقل ہو۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ دریچو کے استدلال کو بھی رد نہیں کریں گے کیونکہ وہ اپنے شعبے میں ماہر ہیں۔

پروفیسر ٹامس نے کہا کہ ابتدائی نسخوں کی کاپیوں سے بنائی گئی کاپیوں میں سے ایک ہو جو خاص طور پر قاہرہ کی مسجد عمر بن عاص کے لیے مرتب کی گئی ہو۔

اسی بارے میں