دولت اسلامیہ کے خلاف روس کے طالبان سے رابطے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption روس کی فوجیں شام میں بھی دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہی ہیں

روس نے اعلان کیا ہے کہ اُس نے طالبان کے ساتھ روابط شروع کر دیے ہیں تاکہ نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مشترکہ دشمن کے خلاف جنگ کی جا سکے۔

صدر پوتن کے افغانستان میں خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ ماسکو کے مفادات اور طالبان کے مفادات سے ملتے ہیں اور وہ طالبان سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں میں موجودگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

روس کے وزیر دفاع سرگئی شوگو نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ روس کرغزستان کی افواج کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے تاکہ ہو دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خطرے کا سامنا کر سکیں۔

کرغستان کے حکام کا کہنا ہے کہ کرغستان کے چار سو کے قریب شہری دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں میں شامل ہو کر شام اور عراق میں سرگرم عمل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے واپس آ گئے ہیں اور ملک کے لیے کسی وقت بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں