استنبول کے ہوائی اڈے پر دھماکہ، ایک خاتون ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ ENV
Image caption ہوائی اڈے کے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے

ترکی کے شہر استنبول کے’صبیحہ گاکن‘ ہوائی اڈے کے ٹارمک پر (جہاں سے مسافر جہاز پر سوار ہوتے ہیں) دھماکے کے بعد ایک ملازمہ ہلاک ہو گئی ہیں۔

’طیارے میں دھماکہ خیز مواد نہیں تھا‘

ایئر انڈیا کا ملازم طیارے کے انجن میں پھنس کر ہلاک

ہلاک شدہ خاتون پیر کی رات ’پیگاسس ایئرلائنز‘ کے ایک جہاز کی صفائی کر رہی تھیں کہ دھماکہ پیش آیا۔

ان کے ایک ساتھی بھی دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔

ہوائی اڈے کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے۔

ترکی کے میڈیا کے مطابقمسلح پولیس نے ہوائے اڈے کے داخلے پر سخت سکیورٹی انتظامات نافذ کر رکھے ہیں، البتہ پروازیں معمول کے مطابق اڑ رہی ہیں۔

پولیس نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والی 30 سالہ خاتون زہرا یماک سر میں چوٹیں آنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔

پیگاسس ایئرلائن نے ایک بیان میں کہا کہ دھماکے کے وقت جہاز کے اندر یا قریب کوئی مسافر موجود نہیں تھا۔

کمپنی کے بیان کے مطابق دھماکہ پیر کی رات دو بج کر پانچ منٹ پر ہوا۔

خبر رساں ادارے دوگن کے مطابق پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا دھماکے کی وجہ جہاز پر نصب کوئی بم تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے تین مسلسل دھماکے سنے تھے۔

صبیحہ گاکن ایئرپورٹ استنبول کے ایشیائی سمت پر واقع ہے اور شہر کا دوسرا سب سے بڑا ہوائی اڈا ہے۔

اسی بارے میں