کولمبیا کے مرد اپنے ناخنوں کے عاشق کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کولمبیا کے مرد ناخنوں کی صفائی اور حفاظت کا خاص خیال رکھتے ہیں

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا کی جیل میں معاشی عنوانی اور بدعنوانی کے جرم میں سزا کاٹنے والے مردوں کے ایک گروہ سے ملنے کے لیے ایک ناخن تراش ان کے ناخنوں کی تراش خراش اور صفائی کے لیے آتا تھا۔

جیل میں قید افراد کی اس چھوٹی سے آسائش کی بارے میں خبریں ستمبر میں منظرعام پر آنے بعد کولمبیا میں انھیں غصے کا سامنا کرنا پڑا۔

لوگوں نے پوچھا کہ قیدیوں کو اس قسم کی خاص سہولیات کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟

تاہم اس امر کے بارے میں کوئی حیران نہیں کہ ان مردوں کو ناخن تراشی کی ایسی کیا ضرورت ہے۔ وجہ یہ کہ کولمبیا میں مردوں کا ’ہاتھوں کی تراش خراش و آرائش‘ غیرمعمولی بات نہیں ہے۔

میں نے پہلی بار یہ رجحان کولمبین آرمڈ فورسز ریٹائرڈ آفیسرز ایسوسی ایشن کی میزبانی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں دیکھا تھا۔

جہاں کہیں بھی میں نے دیکھا، میں نے چمکتے ہوئے اور بالکل صحیح انداز میں پالش شدہ ناخن دیکھے، جن میں سے پیشتر پر رنگ و روغن کیا گیا تھا۔

اس کمرے میں شاید ہی کوئی ایسا ہاتھ ہو گا جس کی ناخنوں کی صفائی و آرایش یا مینی کیور نہ کی ہو۔

Image caption اس سروے کے مطابق کولمبییا کے 27 فی صد سے زائد مرد مینی کیور کرواتے ہیں

اس کے بعد سے میں نے کولمبین مردوں کے ہاتھں کو دیکھتا رہا تاکہ میں اس امر کی تصدیق کر سکوں کہ یہ محض ایک اتفاق نہیں تھا۔

گروپ اون کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں بھی یہ میرے پہلے تاثر کی تصدیق کی۔

اس سروے کے مطابق کولمبین مرد خطے کے دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی خاص دیکھ بھال کرتے ہیں۔

سروے کے مطابق کولمبییا کے 27 فی صد سے زائد مرد مینی کیور کرتے ہیں جبکہ برازیل میں صرف 14 فیصد، میکسیکو میں 11 فیصد، ارجنٹائن میں نو فیصد اور چلی میں صرف پانچ فیصد مرد اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بوگوٹا میں لاس باربریا نامی مردوں کے سیلون کے فیبین اوجیدا ان اعداد و شمار پر حیران نہیں ہیں۔

مردوں کے ناخنوں کی آرائش و تراش خراش کے بارے میں وہ کہتے ہیں: ’دنیا اور لاطینی امریکہ کے دیگر مقامات کے برعکس یہاں یہ سب بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ لاس باربریا میں آنے والے اوسطاً 50 مرد بالوں کی تراش خراش کروانے آتے ہیں اور ان میں سے 15 مینی کیور بھی کرواتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ان میں وہ مرد شامل نہیں جو یہاں صرف اپنے ناخن بنوانے کے لیے آتے ہیں۔

اگرچہ اوجیدا کے بیشتر گاہک امیر طبقے سے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان کسی مخصوص معاشی گروہ تک محدود نہیں ہے۔

Image caption اوجیدا کہتے ہیں کہ ان کے سیلون میں 30 فیصد مرد مینی کیور کے لیے آتے ہیں

ژاں کارلوس کاسترو کولمبیا کی نیشنل ایسوسی ایشن آف بزنسز کے کاسمیٹکس اینڈ گرومنگ چیمبر کے ڈائریکٹر ہیں۔

ان کے خیال میں یہ کولمبیا کا ثقافتی رجحان ہے۔ کچھ عرصہ قبل وہ پیرس میں کاسمیٹکس سے متعلق ایک بین الاقوامی میلے میں شرکت کے لیے موجود تھے۔

جب انھوں نے وہاں دیگر ممالک کے مندوبین کے سامنے مردوں کے لیے ناخنوں کی صفائی اور حفاظت کا ذکر کیا تو بہت سوں کے لیے یہ نہایت عجیب تھا۔

لیکن کاسترو نے بچپن سے ہی یہ دیکھا ہے۔ ان کے والد فوج میں تھے اور مینی کیور کے شوقین تھے۔ ان کی عمر 80 سال ہے اور وہ اب بھی اپنے ناخنوں کی صفائی کرواتے ہیں۔

کاسترو بتاتے ہیں کہ ’فوج میں یہ کسی نہ کسی انداز میں آپ کی رینک کی وضاحت کرتا ہے۔‘

وہ یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کے دادا بھی ایسا کرتے تھے۔

لوئیس الفونسو پرا کولمبیا میں ناخنوں کے رنگ و روغن کی بڑی فیکٹریوں میں سے ایک کے مالک ہیں، اور ہر ماہ لاکھوں بوتلیں فروخت کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں کولمبیا کے مرد ناختوں کی حفاظت اور آرائش کی واضح وجہ ہے اور وہ یہ کہ ’خواتین آپ کے جوتے، آپ کا سوٹ یا شرٹ اور آپ کے ناخن دیکھتی ہیں۔‘

Image caption یہ ایک ایسی عادت ہے جو تقریباً سب نے اپنا رکھی ہے

وہ مردوں کے لیے تین مصنوعات فروخت کرتے ہیں۔ بیس (ناخنوں کی مضبوطی کے لیے)، ٹون (ہلکے گلابی رنگ میں) اور گلوس (چمک کی لیے)۔

ان کی کل پیداوار کا دس سے 15 فیصد حصہ مردوں کی مصنوعات پر مشتمل ہے۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ بہت سے مرد گھر پر ان کی مصنوعات استعمال نہیں کرتے۔

وہ افراد حجام یا گرومنگ سیلون میں ناخن تراشی، پالش اور رنگ و روغن کے لیے جاتے ہیں۔

اوجیدا کے خیال میں مینی کیور کا معاوضہ 15000 پیسوز (4.5 ڈالر) سے 40,000 پیسوز تک ہو سکتے ہیں، جس سے کولمبیا کے بیشتر مرد استفادہ کر سکتے ہیں۔

’آپ کو گرومنگ سیلونوں میں مرد منی کیور کرواتے تو نظر آئیں گے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی حجام کی دکان پر بھی ایسا دکھائی دے گا۔‘

اور میں اس امر کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ میں نے کولمبیا میں بہت سارے طبقات اور بہت سارے پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔

بینکاروں سے لے کر پولیس والوں تک، جنگل کے درمیان اور یہاں تک فرانگ باغیوں میں بھی، یہ ایک ایسی عادت ہے جو تقریباً سب سے اپنا رکھی ہے۔

اسی بارے میں