پیرس حملوں میں ایک اور مشتبہ شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بیلجیئم میں پولیس نے پیرس حملوں میں مدد کے شبے میں ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ اب تک پیرس حملے میں معاونت مہیا کرنے کے شبے میں نو افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

13 نومبر کو پیرس میں ہونےو الے حملوں میں کم از کم 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

برسلز میں استغاثہ نے بتایا ہے کہ گرفتار کیے جانے والے عبداللہ سی نامی شخص سے پیرس حملوں کے مشبتہ سرغنہ عبدالحمید اباعود کے ایک کزن نے 13 نومبر کے حملے کے بعد رابطہ کیا تھا۔

بیلجیئم کے شہری عبدالحمید اباعود اور حسنا ایتبولاسن پیرس حملوں کے پانچ روز بعد پیرس میں پولیس کی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس نے گرفتار کیے جانے والے مشتبہ شخص کے بارے میں بہت کم معلومات جاری کی گئی ہیں، جنھیں منگل کے روز ایک ایسے پولیس آپریشن میں گرفتار کیاگیا جس کی زیادہ تشہیر نہیں کی گئی۔

پولیس نے اس گرفتاری کی تشہیر نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ ان کے ممکنہ ساتھیوں کو چوکنا نہیں کرنا چاہتے تھے۔

عبداللہ سی کو جمعرات کے روز پیرس حملوں کے ایک اور مشتبہ شخص مراکشی نژاد ابریمی لازیز کے ہمراہ برسلز کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

39 سالہ ابریمی لازیز پر الزام ہے کہ انھوں نے پیرس پر حملہ کرنے والے افراد میں سے ایک، صالح عبدالاسلام کو فرانس سے فرار ہونے میں مدد دی تھی۔

پولیس کو ابریمی لازیز کی کار سے دو گنیں اور خون کے نشانات ملے تھیں لیکن بعد میں ثابت ہوا کہ خون کے نمونے صالح عبدالاسلام نہیں ملتے تھے اور دونوں گینں لائیو فائر کرنے کے قابل نہیں تھیں۔

اسی بارے میں