شام کے متعدد باغی رہنما فضائی حملے میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کی امداد سے چلنے والے العربیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ دمشق میں جاری جیش الاسلام کے کمانڈروں کے اجلاس پر دس راغٹ داغے گئے

شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شام کے طاقتور باغی گروہوں میں سے ایک جیش الاسلام کے کئی لیڈر دارالحکومت دمشق کے جنوب میں ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام کی فوج اور باغیوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے میں جیش الاسلام کے بانی 44 سالہ ضارون علوش بھی شامل ہیں۔

شامی باغی ’یرموک پناہ گزین کیمپ سے نکل جائیں گے‘

شام امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار

’شام کے لیے اقوام متحدہ کا منصوبہ ایک سنگِ میل ہے‘

واضح رہے کہ سعودی عرب کا حمایت یافتہ یہ اسلامی گروپ کے بڑے دھڑوں میں سے ایک ہے اور مشرقی غوطہ کے دیہی علاقوں میں سرگرم ہے۔

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حال ہی میں ہونے والے امن مذاکرات میں یہ گروہ بھی شامل تھا۔

سعودی عرب کی امداد سے چلنے والے العربیہ ٹی وی کا کہنا ہے کہ دمشق میں جاری جیش الاسلام کے کمانڈروں کے اجلاس پر دس راغٹ داغے گئے۔

العربیہ ٹی وی کے مطابق جیش الاسلام کے نائب رہنما بھی اس فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز نے باغی گروہ کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ روس کے جہازوں نے کیا تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

واضح رہے کہ روس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم اور دیگر گروہوں کے خلاف رواں برس 30 ستمبر سے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

روس کا موقف رہا ہے کہ وہ ان حملوں میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاہم باغی اور مغربی حکام کا کہنا ہے کہ روس کے فضائی حملے دیگر گروہوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں