آسٹریلیا کے جنگل میں آگ، 100 سے زائد گھر تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوگ ابھی کرسمس کا جشن منا ہی رہے تھے کہ اچانک پہاڑی سے دھواں اٹھنے لگا اور دیکھتے دیھکتے آگ پھیل گئی

آسٹریلیا میں حکام کا کہنا ہے کہ وکٹوریا صوبے میں یوم کرسمس پر لگنے والی آگ میں تقریبا 100 مکانات تباہ ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنگل میں لگنے والی اس آگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

حکام کے مطابق 98 گھر وائی دریا کے علاقے میں آگ کی زد میں آ گئے ہیں جبکہ سیپریشن کریک میں 18 گھر نذر آتش ہو گئے ہیں۔

وکٹوریہ صوبے کے جنوب مغرب میں گریٹ اوشین روڈ کے علاقے میں لگنے والی اس آگ کو بجھانے کے لیے فائر ڈیپارٹمنٹ کے سینکڑوں عملے سرگرم عمل ہیں۔

یہ علاقہ چھٹیاں منانے والوں میں بہت مقبول ہے۔

موسم میں تبدیلی اور بارش نے جنگل کی اس آگ کے خطرے کو بہت حد تک کم کر دیا ہے تاہم ابھی بھی ہنگامی صورت نافذ ہے اور احتیاط برتنے کی بات کہی جا رہی ہے۔

یہ آگ گذشتہ دنوں لگی تھی اور تیز ہواؤں اور موسم کے گرم ہونے کے سبب اس نے خوفناک شکل اختیار کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آگ کو رہائشی علاقوں کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے 500 سے زائد فائر فائٹرز، 60 ٹینکرز اور 18 طیاروں کا استعمال کیا گيا ہے

آگ کے خطرات کے پیش نظر سیاحوں کے مقبول مقام لورنے سے جمعے کو تقریبا 1600 مقامی باشندوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔

انھیں خدشہ تھا کہ ہواؤں کی وجہ سے آگ لورنے کی طرف بڑھ سکتی ہے تاہم سنیچر کو انھیں وہاں واپس آنے کی اجازت دی گئی ہے۔

بہت سے لوگ جو وہاں کرسمس منانے آئے تھے انھیں آگ کے سبب کھلے آسمان کے نیچے رات بسر کرنی پڑی۔

آگ کو رہائشی علاقوں کی جانب بڑھنے سے روکنے کے لیے 500 سے زائد فائر فائٹرز، 60 ٹینکرز اور 18 طیاروں کا استعمال کیا گيا ہے۔

وکٹوریہ ایمرجنسی مینجمینٹ کمیشنر کریگ لیپسلی نے کہا کہ وہ ’آگ پر قابو پانے کے لیے دن رات سرگرم عمل رہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہر چند کہ فوری خطرہ کم ہوگيا ہے لیکن آگ میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ آنے والے کئی ہفتوں تک جلتی رہے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لوگوں کو گھر سے دور کھلے میں رات بسر کرنی پڑی

کرسمس کے موقعے پر بڑی تعداد میں سیاح ساحلی علاقوں میں چھٹیاں گزارنے پہنچتے ہیں لیکن انھیں سب کچھ چھوڑ کر محفوظ مقامات پر جانا پڑا۔

مقامی باشندے پیٹپرک کیری نے کہا: ’وہ سب پوری طرح تیار تھے، اپنا الاؤ تیار کر رکھا تھا اور وہ باہر کھانا پکا رہے تھے کہ اچانک انھوں دیکھا کہ پہاڑی سے دھواں نکلنے لگا۔ انھیں یہ خبر تھی کہ اس کے آنے میں ابھی چار گھنٹے ہیں کہ اچانک یہ پتہ چلا کہ صرف ایک گھنٹہ ہے اس لیے انھوں نے سب کچھ چھوڑ دیا۔ کھانا پکانا بند کر دیا اور اپنی کاروں میں سوار ہو گئے۔‘

لورنے کے قریب ہر سال ہونے والے’دی میوزک اینڈ آرٹس فیسٹيول‘ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس بار شاید اس کا انعقاد نہیں ہوپائے گا۔

وکٹوریہ میں جنگلات کی آگ کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ سنہ 2009 میں وکٹوریہ میں آگ لگنے سے 170 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں