فرانسیسی جزیرے کورسیکا میں مسلمانوں کی عبادت گاہ پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے دونوں واقعات کی مذمت کی ہے اور اس کے مرتکبین کو سزا دینے کا عہد کیا ہے

فرانسیسی جزیرے کورسیکا میں مسلمانوں کی ایک عبادت گاہ میں ایک گروہ نے توڑ پھوڑ کی ہے اور قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے یہ حملہ مظاہرین کے ایک گروپ کی جانب سے ہوا ہے جو بظاہر بحیرۂ روم میں فرانس کے جزائر پر آگ بجھانے والے عملے پر حملے کے رد عمل میں تھا۔

یہ حملہ جزائر کے دارالحکومت اجیکسیو میں ہوا ہے جہاں مجموعی طور سینکڑوں افراد دو آگ بجھانے والے عملے اور ایک پولیس افسر کے زخمی ہونے پر احتجاج کرنے کے لیے اکٹھا ہوئے تھے۔

حکومت نے دونوں واقعات کی مذمت کی ہے اور اس کے مرتکبین کو سزا دینے کا عہد کیا ہے۔

جمعے کو آگ بجھانے والے عملے کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے اجیکسیو میں لوگوں کا ایک ہجوم اکھٹا ہوا۔

اس کے بعد بعض مظاہرین جمعرات کی شب کو ہونے والے حملے کی جگہ پہنچ گئے۔ یہ علاقہ دارالحکومت کا غیر ترقی یافتہ نواحی علاقہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انھوں نے ’عرب نکل جاؤ‘ اور ’یہ ہمارا گھر ہے‘ جیسے نعرے لگائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوسیکا بحیرۂ روم میں جزائر پر مبنی فرانسیسی خطہ ہے

اس کے بعد مظاہرین نے مقامی مسجد کو نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی۔ انھوں نے بعض کتابوں کو نذر آتش بھی کیا جن میں قران مجید کے نسخے بھی شامل تھے۔

فرانس کے وزیر اعظم مینوئل ولاس نے کہا کہ ’حملہ ناقابل قبول بے حرمتی ہے۔‘

فرانس میں مسلمانوں کی کونسل نے بھی اس تشدد کی مذمت کی ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق جمعرات کے واقعے میں آگ بجھانے والے عملے پر ہڈ پہنے ہوئے چند نوجوان نے حملہ کیا تھا۔

وزیر داخلہ برنارڈ کیزینیو نے دونوں حملوں کے مرتکبین کی نشاندہی کرنے اور انھیں گرفتار کرنے کا عہد کیا ہے۔

مسٹر کیزینیو نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ’نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت‘ کے لیے فرانس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 13 نومبر کے حملے کے بعد کرسمس کی چھٹیوں کے موقعے پر فرانس میں سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں