رمادی پر دولت اسلامیہ کی گرفت کمزور، عراقی افواج کی پش قدمی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عراقی فوجی رمادی کے مرکز میں داخل ہوتے ہوئے بلند حوصلہ نظر آئے

رمادی میں عراقی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقوں میں مزید پیش قدمی کی ہے۔

خبررساں ادرے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو عراقی فوج کے ترجمان کے جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام تر مزاحمت کے باوجود سرکاری افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔

عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

رمادی کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

رمادی کے اہم ڈسٹرکٹ پر عراقی فوج کا دوبارہ ’کنٹرول‘

خیال رہے کہ سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اگر رمادی پر عراقی افواج کا قبضہ ہوجاتا ہے تو یہ سنہ 2014 کے بعد سے اب تک کی سرکاری افواج کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

سرکاری فورسزز کے ترجمان بریگیڈیئر یحیی رسول کے مطابق شہر کے علاقے ہوز جہاں صوبائی حکومت کے دفاتر واقع ہیں، میں عراقی فوج نے پیش قدمی کی ہے۔

’انسدادِ دہشت گردی کی فورس کے جوانوں نے گزشتہ روز ایک کلومیٹر کی پیش قدمی کی ہے اور اب وہ سرکاری عمارتوں سے آٹھ سو میٹر کی دوری پر ہیں۔‘

بریگیڈیئر یحیی رسول کا مزید کہنا تھا کہ ’ فضائی بمباری زمینی افواج کی، پیش قدمی کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے۔‘

خصوصی آپریشنز کے کمانڈر سمیع الآردی کا کہنا ہے کہ ’ رمادی کو تین اطراف سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ہماری فوج اب اپنے اہداف کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے اس میں تاخیر مجرموں کی جانب سے گھر اور دیگر عمارتوں میں نصب کیے گئے بموں کی وجہ سہ ہو رہی ہے۔‘

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو گھیر رہے ہیں۔

Image caption عرقی فوج کو امریکہ نے اس آپریشن کے لیے مہینوں تربیت دی ہے

واضح رہے کہ رمادی صوبائی دارالحکومت ہے اور بغداد سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

سرکاری افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحیی رسول کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں نے مرکزی ہسپتال میں پناہ لے رکھے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ سرکاری فوج ہسپتال کو نشانہ نہیں بنائے گی۔

یحیی رسول نے اس بارے میں کوئی حتمی ٹائم فریم دینے سے انکار کیا کہ شہر کو کب تک دولتِ اسلامیہ سے مکمل طور پر خالی کروالیا جائے گا۔

اس سے قبل بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے نمائندے سبیسٹیئن اشر کا کہنا تھا کہ رمادی کا حملہ عراقی افواج کی جانب سے موثر کارروائی نظر آ رہا ہے اور اس کے لیے امریکہ نے مہینوں تربیت دی تھی۔

سکیورٹی حکام نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عراقی افواج نے، جنھیں سنی قبائلیوں اور امریکہ کی قیادت میں اتحادی طیاروں کی مدد حاصل ہے، پہلے ہی دو ضلعوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہ دوسرے دو ضلعوں میں داخل ہو گئی ہیں۔

گذشتہ ماہ حکومت کی فورسز نے رمادی شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

اسی بارے میں