ہزاروں باغیوں کا دمشق چھوڑنے کا معاہدہ کھٹائی میں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فلسطینی کیمپ یرموک میں 18 ہزار سے زیادہ افراد پھنسے ہوئے ہیں

اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی زیر نگرانی طے پانے والےثالثی معاہدے کے تحت دمشق میں فلسطینی مہاجرین کے کیمپ یرموک پر قابض ہزاروں شدت پسند جنجگوؤں کے دمشق سے نکل جانے کے معاہدے پر عمل درآمد رک گیا ہے۔

معاہدے کے تحت خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے ہزاروں شدت پسند جنگجوؤں کو دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ یرموک کے اندرونی اور بیرونی علاقوں سے نکل جانا تھا۔

شام: یرموک کا پناہ گزین کیمپ

اقوامِ متحدہ کا یرموک میں رسائی دینے کا مطالبہ

شام: دولت اسلامیہ کے جنگجو فلسطینی کیمپ میں داخل

ذرائع نے بتایا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ گذشتہ روز شامی فوج کے حملے میں شدت پسند تنظیم جیش اسلام کے سربراہ کی ہلاکت کی وجہ سے وہ راستہ غیر محفوظ ہوگیا ہے جہاں سے شدت پسندوں کو لے کر جانے والی بسوں کو گذرنا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق 2012 سے اب تک فلسطینی کیمپ یرموک میں 18 ہزار سے زیادہ افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

Image caption یرموک کیمپ سنہ 1948 میں ہونے والی عرب اسرائیل لڑائی کے دوران بھاگنے والے فلسطینوں کے لیے قائم کیا گیا تھا

دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نےگذشتہ برس یرموک کیمپ کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ یرموک کیمپ کے کچھ حصوں پر دولت اسلامیہ جبکہ کچھ حصوں پر القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کا قبضہ ہے ۔البتہ کچھ حصے اب بھی شامی حکومت کے حمایت یافتہ فلسطینی ملیشیا کے قبضے میں ہیں۔

اس معاہدے کے تحت شدت پسند جنگجو یرموک اور اس کے قریبی ضلعوں ہجارالاسود اور القدم کو خالی کر دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق باغیوں اور ان کے اہل خانہ کو لے کر جانے کے لیے اٹھارہ بسیں جمعہ سے یرموک کیمپ پہنچ چکی ہیں۔

لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کے مطابق ان بسوں کو جیش السلام کے زیر قبضہ علاقوں سے گزرنا ہے اور ان کا رہنما گذشتہ روز فضائی حملے میں ہلاک ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ علاقہ غیر محفوظ ہو گیا ہے۔

برطانیہ میں مقیم سیرین آوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق باغیوں کے علاقے سے نکلنے کے معاہدے پر عمل درآمد وقتی طور پر رکا ہے اور دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ شہر رقہ تک جانے کے لیے راستے کو محفوظ بنانے تک اس پر عمل درآمد رکا رہےگا۔

اس معاہدے کےتحت حکومتی افواج دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو رقہ شہر اور النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں کو ادلیب شہر جانے کی اجازت دیں گے

روس کی جانب سے بشار الاسد کی مدد کو آنے کے بعد یہ دوسرا بڑا علاقہ ہوگا جسے شدت پسند چھوڑنے پر تیار ہوئے ہیں۔ اس سے قبل شدت پسند حمص کو چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Amaq
Image caption دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے رواں برس اپریل میں اس کیمپ میں داخل ہو کر اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا

یرموک کا فلسطینی پناہ گزین کیمپ دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کے حلیف النصرہ فرنٹ، فلسطینی حکومت کے حامی اور مخالف شدت پسندوں کے مابین تقسیم ہو چکا ہے۔

واضح رہے کہ یرموک کیمپ سنہ 1948 میں ہونے والی عرب اسرائیل لڑائی کے دوران بھاگنے والے فلسطینوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے پہلے یرموک کیمپ میں 1,50,000 فلسطینی پناہ گزین رہائش پذیر تھے۔

یرموک کیمپ میں گذشتہ دو سالوں سے پھنسے ہوئے افراد میں 3,500 بچے بھی شامل ہیں جن کے پاس کھانے، پانی اور طبی سہولت نہیں ہے۔

اسی بارے میں