جنوبی امریکہ میں سیلاب، ڈیڑھ لاکھ افراد کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیراگوئے میں تقریبا سوا لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

براعظم جنوبی امریکہ میں پیراگوئے، ارجنٹینا، یوروگوئے، اور برازیل میں گذشتہ نصف صدی میں آنے والے سب سے تباہ کن سیلاب میں ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر جبکہ امریکہ کی مغربی ریاستوں میں طوفان کے نتیجے میں ہلاکتیں کم از کم 29 ہو گئی ہیں۔

امریکہ میں شدید طوفان سے 11 افراد ہلاک، متعدد زخمی

میکسیکو میں سمندری طوفان کے بعد اب سیلاب کا خطرہ

جنوبی امریکی ممالک میں حکام کے مطابق تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

النینو کے زیر اثر کئی دنوں سے جاری تیز بارش کے سبب ان ممالک سے گزرنے والی تین اہم دریا طغیانی پر ہیں اور حکام نے اس میں مرنے والوں کی تعداد چھ بتائی ہے۔

پیراگوئے میں ہنگامی صورت حال نافذ کر دی گئی ہے اور تقریبا ایک لاکھ 30 ہزار کو اپنے گھر بار چھوڑ کر بھاگنا پڑا ہے۔ جنوبی امریکہ میں پیراگوئے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں اور بندھ ٹوٹنے کا خدشہ ہے جس سے مزید لوگ متاثر ہو سکتے ہیں

شمالی ارجنٹینا میں تقریبا 20 ہزار افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

برازیل اور یوروگوئے کے سرحدی علاقوں میں آنے والے دنوں خشک موسم کی پیشین گوئی کی گئی ہے لیکن پیراگوئے اور ارجنٹینا میں پانی کے سطح میں مزید اضافے کی بات کہی جا رہی ہے۔

پیراگوئے کے دارالحکومت اسنشیئن میں بہنے والا دریا اپنے بند سے باہر آنے سے صرف ایک فٹ نیچے ہے اور حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے بند ٹوٹنے یا پانی کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں وسیع علاقے میں سیلاب کا پانی پھیل جائے گا۔ اور اس سے شہر میں رہنے والے ہزاروں افراد متاثر ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ارجنٹینا میں آنے والے دنوں مزید بارش کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے

پیراگوئے کے نیشنل ایمرجنسی دفتر کا کہنا ہے کہ سیلاب ال نینیو کا براہ راست نتیجہ ہے جس میں بارش کی شدت اور دورانیے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

چار افراد کے پیڑوں کے نیچے دب کر مرنے کی تصدیق کی گئی ہے جکہ تیز ہواؤں کے نتیجے تقریبا 200 بجلی کے کھمبے گرنے کی وجہ سے بجلی منقطع ہے۔

ارجنٹینا میں کم از کم دو افراد سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں اور اس کا شمال مشرقی علاقہ زیادہ متاثر ہے جبکہ 20 ہزار افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

برازیل میں تقریبا دو ہزار خاندانوں کو ریو گرانڈ دو سول صوبے کے تقریبا 40 قصبوں سے نکالا گیا ہے۔ صدر جیلما روسیف نے سنیچر کو سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا۔

خیال رہے کہ لاطینی امریکہ کے ان ممالک میں گذشتہ ایک ہفتے سے بارش جاری ہے اور یوروگوئے اور کوارائے دریا طغیانی پر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ کا وسط مغربی علاقہ ایک ہفتے سے شدید طوفان کی زد میں ہے

جبکہ دوسری جانب امریکی ریاست ٹیکساس میں پولیس کا کہنا ہے ایک ہفتے سے جاری شدید طوفان، بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں صرف ٹیکساس میں 11 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی اب کم از کم 29 ہوگئی ہے۔

ڈیلس کے قریب گارلینڈ کے علاقے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے جن میں سے پانچ ایک کار میں موجود تھے جب وہ موٹر وے پر سیلابی پانی کی نظر ہوئی۔ بعد میں تین لاشیں ایک اور کاؤنٹی سے ملیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں کافی زیادہ تند ہوائیں چل سکتی ہیں جن کی وجہ سے 16 انچ تک برف پڑ سکتی ہے۔

ماہرین موسمیات نے اس طوفان کو’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا ہے۔

ٹیکساس سے آنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی ڈیلس سے لے کر شمال مشرقی نواحی علاقوں تک کے 64 کلو میٹر لمبے علاقے میں طوفان کی وجہ سے گرجے تباہ ہو گئے ہیں، گاڑیاں الٹ گیئں اور درخت گر گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تقریبا 400 مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کی وجہ سے شمالی مسی سپی میں سات، ٹینیسی میں تین جبکہ آرکنساس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔

اطلاعات کے مطابق طوفان کی تیز ہواؤں نے مکانوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مسی سپی میں تقریباً 400 مکانات جزوی یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 56 تک پہنچ گئی ہے۔

ماہرین موسمیات نے کینٹکی، ایلاباما، انڈیانا، الینوئے اور مزوری کی ریاستوں میں کرسمس سے پہلے خراب موسم کی پیش گوئی کی تھی۔

اسی بارے میں