سنہ 2015 میں انٹرنیٹ پر پھیلنے والے چند جھوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption سوشل میڈیا سنہ 2015 میں پہلے کے مقابلے زیادہ مشغول تھا اور اسی طرح دنیا بھر کے صحافی بھی

صحافیوں کے لیے یہ سال بھی ان معنوں میں بہت مشغول رہا کہ انھیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی نقلی اور گمراہ کن تصاویر کی سچائی کو سامنے لانے میں منہمک رہنا پڑا۔

سنہ 2015 میں بہت سی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں اور ان میں سے بعض غلط وجوہات سے۔

دانستہ طور پر غلط تصاویر تیار کی گئی تاکہ لوگوں کو دھوکا دیا جائے اور پھر ان گمراہ کن تصاویر کو بریکنگ نیوز کے حالات میں شیئر کیا گیا۔

کیا آپ ان میں سے کسی کی زد میں آئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ تصویر دراصل ویت نام کی ہے جسے نیپال کے نام پر دکھایا گيا تھا

نیپال کے زلزلے کے بعد بہت سی دلدوز تصاویر پیش کی گئیں۔ ان میں سے یہ ایک تصویر تھی جو کہ نقلی تو نہیں تھی تاہم گمراہ کن ضرور تھی۔

اس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ نیپال میں ایک چار سال کا لڑکا اپنی دو سال کی بہن کی کس طرح حفاظت کررہا ہے۔ اسے فیس بک اور ٹوئٹر پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گيا تھا اور اس سے امداد طلب کی گئی تھی۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تصویر ویت نام کے ایک دور دراز کے گاؤں میں سنہ 2007 میں لی گئی تھی۔

فوٹوگرافر نا سن اینگوئن کا کہنا ہے کہ ’شاید یہ میری سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی تصویر ہے لیکن بد قسمتی سے غلط سیاق و سباق میں پیش کی گئی ہے۔‘

نیپال کے زلزلے کے متعلق سوئمنگ پول کا ویڈیو

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ ویڈیو نیپال کی نہیں بلکہ میکسیکو کی تھی

اسی دوران فیس بک اور یو ٹیوب پر ایک ویڈیو آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کھٹمنڈو کے ہوٹل کے ایک سکیورٹی کیمرے سے پول کی تصویر۔

اس کا استعمال بین الاقوامی میڈیا میں 81 سال کے دوران نیپال کے سب سے خطرناک زلزلے کو دیکھانے کے لیے کیا گيا تھا۔ جبکہ حقیقتاً یہ ایک پرانی ویڈیو ہے جو کہ میکسیکو میں آنے والے زلزلے کے وقت لی گئی تھی۔

اس میں سے تاریخ مٹا دی گئی تھی لیکن ایک یوٹیوب دیکھنے والے نے متنبہ کیا تھا کہ ’ہر بار جب کوئی بڑا زلزلہ آتا ہے تو لوگ اسے نکال لاتے ہیں۔‘

بحرانی حالات میں بہت سی غلط اور گمراہ کن تصاویر شیئر کی گئیں۔ ان میں سے عمارت کے مہندم ہونے کا منظر بھی تھا جو در اصل مصر کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ دراصل کسی کا سفر نہیں بلکہ ایک فیسٹیول کی مہم تھی

اسی طرح ایک شخص کا سنیگال سے سپین کا سفر اسی موسم گرما میں انسٹا گرام پر ظاہر ہوا تھا۔

ڈکار کے عبدالرؤف کی سیلفی انٹر نیٹ پر بہت مقبول ہوئی تھی اور اس کے ہزاروں فالوورز نظر آئے اور بہت حوصلہ کن خیالات پیش کیے گئے۔

بالآخر یہ شمالی سپین میں ہونے والے ایک فوٹوگرافی کے فیسٹیول کی مہم نکلی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ دولت اسلامیہ کا نہیں بلکہ فری سیریئن آرمی کا فوجی تھا

پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے بحران کے عروج کے زمانے میں فیس بک پر پہلے اور بعد میں والی بہت سی تصاویر گشت کرنے لگی۔ ایک شخص نے لکھا: ’یہ شخص آپ کو یاد ہے گذشتہ سال یہ دولت اسلامیہ کا جنگجو تھا اور آج یہ پناہ گزین ہے۔‘

اس کے بعد اس شخص کی لیث الصالح کے طور پر شناخت کی گئی جس کا فری سیریئن آرمی سے تعلق تھا۔ یہ معتدل باغی جنگجو شام میں صدر بشار الاسد کے مخالف ہیں۔ وہ رواں سال اگست میں شام سے نکل کر مقدونیہ پہنچا تھا۔

حقیقت حال سے باخبر ہونے کے بعد جس شخص نے وہ تصویر شیئر کی تھی اس نے معافی مانگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ فرانس کے بٹاکلان کا منظر نہیں بلکہ ڈبلن اولمپیا تھیئٹر کی تصویر تھی

اسی طرح نومبر کے پیرس حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر بہت سی افواہیں اور گمراہ کن تصاویر گشت کرتی رہیں۔

ان میں سے ایک یہ تصویر تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بٹاکلان میں فائرنگ سے قبل لوگ اس طرح تھے جو کہ بالکل ہی غلط تھی۔

یہ تصویر در اصل ڈبلن اولمپیا تھیئٹر کی تھی اور حملے سے ایک دن قبل فیس بک پر پوسٹ کی گئی تھی۔

اسی طرح مندرجہ ذیل تصویر خود کش حملوں کے بعد پیرس کی سنسان گلیوں کی عکاسی کے لیے وسیع پیمانے پر شیئر کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ ایک پراجیکٹ کے تحت لی گئی تصویر تھی جس میں قیامت کے بعد کی دنیا کا تصور پیش کیا گیا تھا

یہ تصویر دراصل سائلنٹ ورلڈ نامی ایک پروجیکٹ کے تحت لی گئی تھی جس میں ٹرک فوٹوگرافی کے ذریعے یہ دکھایا گيا تھا کہ دنیا ختم ہونے کے بعد شہر کیسے نظر آئیں گے۔

اسی طرح لندن کے ٹیوب والا ویڈیو جس میں ’تم مسلمان نہیں ہو سکتے ہو بھائی‘ سنا گیا تھا اور پھر اس کے بعد اسی نام کا ہیش ٹیگ شروع ہوا تھا وہ بھی اصلی نہیں تھا حالانکہ اس میں اصل جذبات کی ہی ترجمانی کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption یہ ایک مہم کے تحت بنایا گيا اشتہار تھا

اسی طرح جرمنی کے ایک جوڑے کی کہانی سے بہت سے لوگ بے وقوف بنے تھے جس میں ایک شخص نے طلاق کے بعد اپنی تمام چیزوں کو آری سے دو ٹکڑے کر دیا تھا اورپھر اسے فروخت کے لیے رکھ دیا تھا۔

ایی بے پر ہونے والی نیلامی تو اصل تھی لیکن یہ کہانی سچی نہیں تھی۔

اسی بارے میں