’اسلام کے بارے میں منفی رائے بدلنے کی کوشش کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حسن روحانی کا شمار ایران کے اعتدال پسند سیاست دانوں میں ہوتا ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ تشدد کے باعث دنیا بھر میں اسلام بدنام ہوا ہے اور اسلام کے بارے میں لوگوں کی منفی رائے کو بدلنے کے لیے مسلمانوں کو کوشش کرنی چاہیے۔

تہران میں منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر روحانی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ہر حالت میں حقیقی دنیا اورسائبر دنیا سے اسلام کے منفی تصور کو ختم کرنا ہوگا۔‘

حسن روحانی کون ہیں؟

مغرب کی غلطیوں سے مشرقِ وسطیٰ دہشت گردوں کی جنت بنا

ایران کے اعتدال پسند صدر کا کہنا ہے کہ اسلام کے اصول تشدد کی مخالفت کرتے ہیں۔

ایران یمن میں شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں فضائی کارروائی کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ باغیوں نے رواں برس کے آغاز میں یمن کے بڑے حصوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

صدر روحانی نے پوچھا: ’آپ نے امریکہ سے اس سال کتنے بم اور میزائل خریدے ہیں؟ اگر آپ اس رقم کو جو آپ نے بم اور میزائل خریدنے پر خرچ کی، غریب مسلمانوں میں تقسیم کر دیتے تو کوئی بھوکے پیٹ نہ سوتا۔‘

مسلمانوں کے درمیان اتحاد کے حوالے سے اتوار کو منعقد ہونے والی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب وہ مسلمان بچوں کو پناہ کی خاطر مشکل اور خطرناک سفر کر کے غیر مسلم ممالک میں جاتے ہو دیکھتے ہیں تو انھیں شرم محسوس ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی صدر نے شام، عراق اور یمن میں ’ہلاکتوں اور خون خرابے پر مسلمان ملکوں کی خاموشی‘ کی مذمت بھی کی

ریاستی ٹیلی وژن پر براہِ راست نشر کی جانے والی اس تقریر میں ایرانی صدر نے کہا کہ ’یہ ہماری سب سے اہم اور بڑی ذمہ داری ہے کہ ہم اس تصور کو درست کریں جو اسلام کے بارے میں دنیا کے ذہن میں بن گیا ہے۔‘

انھوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ اسلام کی شہرت کو خود اس کے گھر میں تشدد کے باعث نقصان پہنچ رہا ہے۔ حسن روحانی نے خطے کے تمام اسلامی ملکوں پر زور دیا کہ وہ ’تشدد، دہشت گردی اور قتلِ عام‘ روک دیں۔

ایرانی صدر نے شام، عراق اور یمن میں ’ہلاکتوں اور خون خرابے پر مسلمان ملکوں کی خاموشی‘ کی مذمت بھی کی۔

واضح رہے کہ ایران شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کا حامی ہے اور حکومت سے لڑنے والے جہادیوں اور باغیوں کے خلاف جنگ میں دمشق کو دستے اور فوجی مہارت فراہم کرتا ہے۔

ان جہادیوں اور باغیوں میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ بھی شامل ہے۔ ایران کے عراق کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور وہ عراق اور شام کی حکومت سے لڑنے والے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کی بھی مذمت کرتا ہے۔

اسی بارے میں