پیرس حملہ آور سمیع امیمور کی لاش نامعلوم مقام پر دفن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق امیمور کے والدین نے اپنے بیٹے کی قبر کو چھپانے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے

اطلاعات کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 13 نومبر کو بتاکلان تھیٹر پر حملہ کرنے والے ایک شخص کی لاش کو کرسمس کی شام شمالی نواحی علاقے میں دفن کر دیا گیا ہے۔

سمیع امیمور ان تین خود کش حملہ آوروں میں شامل تھے جنھوں نے بتاکلان تھیٹر پر ایک میوزک کانسرٹ کےدوران حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 90 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انھیں سینی سینٹ ڈینس میں ایک قبرستان میں دفن کیا گیا ہے جہاں وہ بڑے ہوئے اور ان کے والدین رہائش پذیر ہیں۔ان کی آخری رسومات میں بہت ہی کم لوگ شامل ہوئے اور ان کی قبر کو بے نشان رکھا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پیرس پر اسلامی شدت پسندوں کے ان حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

28 سالہ سمیع امیمور کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ ان حملہ آوروں میں سے پہلے ہیں جنھیں دفن کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق امیمور کے والدین نے اپنے بیٹے کی قبر کو چھپانے کی ہر ممکنہ کوشش کی ہے۔حکام کو اس بات کا خوف تھا کہ کہیں یہ قبر بعد میں کوئی مزار یا حملوں کا نشانہ نہ بن جائے۔

فرانسیسی شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ انھیں وہاں دفن کیا جائے جہاں وہ رہتے تھے یا جہاں ان کی موت ہوئی یا پھر ان کے آبائی قبرستان میں۔

امیمور پر سنہ 2012 میں یمن جانے کی منصوبے بندی کرنے اور دہشت گردی کے مقدمات چل رہے تھے جس کے بعد انھیں عدالتی نگرانی میں رکھا گیا تھا لیکن وہ آنکھوں سے اوجھل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔جس کے بعد حکام کو بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا پڑے تھے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ امیمور نے شام کا سفر کیا تھا اور پھر فرانس میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں