عراقی فوج کا رمادی کو ’آزاد‘ کروانے کا دعویٰ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراقی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع شہر رمادی کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے مکمل طور پر ’آزاد کروا لیا گیا‘ ہے۔

بریگیڈیئر جنرل یحییٰ رسول نے کہا ہے کہ عراقی فوج نے ’یادگار‘ فتح حاصل کی ہے اور اب فوج علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔

عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

رمادی کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

رمادی کے اہم ڈسٹرکٹ پر عراقی فوج کا دوبارہ ’کنٹرول‘

فوجی ترجمان نے کہا کہ شہر کا زیادہ تر علاقہ فوج کے کنٹرول میں ہے تاہم صوبہ انبار کے گورنر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ شہر میں اب بھی ’کچھ علاقوں میں مزاحمت موجود ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراقی فوج کئی ہفتوں سے رمادی پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی

عراقی فوج نے پیر کو رمادی کے وسطی علاقے میں واقع حکومتی عمارتوں کے اس کمپلیکس پر قومی پرچم لہرا دیا جسے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسند ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو یہ جگہ چھوڑ کر شہر کے شمال مشرق کی طرف فرار ہوئے ہیں۔

عراقی حکومت کی افواج جنھیں غیرملکی اتحادی افواج کی فضائی مدد حاصل ہے کئی ہفتوں سے سنّی اکثریتی آبادی والے اس شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے کوشاں ہیں۔

رمادی پر رواں برس مئی میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے قبضہ کیا تھا اور اسے عراقی فوج کے لیے ایک شرمناک شکست کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراقی فوج رمادی میں جشن مناتی نظر آئی

حالیہ دنوں میں عراقی فوج نے ایسی گلیوں اور عمارتوں سے گزر کر شہر کے مرکز کی جانب راستہ بنایا جن میں پوشیدہ بم نصب تھے اور راستے میں کئی اضلاع کو اپنے قبضے میں بھی لیا تھا۔

عراقی فوج کے آٹھویں ڈویژن کے بریگیڈیئر جنرل ماجد فتلاوی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ’حکومتی کمپیلکس کی سڑکوں اور عمارتوں میں 300 سے زیادہ بم نصب کر رکھے تھے۔‘

عراقی فوج کی جانب سے رمادی میں فتح کے اعلان کے باوجود امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے صوبہ انبار میں عسکری کارروائیوں کے سربراہ جنرل اسماعیل المہلوی کے حوالے سے کہا ہے کہ پسپا ہونے والے شدت پسند اب بھی شہر کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔

گذشتہ ماہ حکومتی فورسز نے رمادی شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

Image caption عرقی فوج کو امریکہ نے اس آپریشن کے لیے مہینوں تربیت دی ہے

اسی بارے میں