’رمادی سے دولتِ اسلامیہ کی پسپائی ایک اہم قدم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق کے وزیراعظم نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں عراقی افواج موصل شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے خالی کروائی گی

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ عراقی شہر رمادی سے دولتِ اسلامیہ کی پسپائی اس شدت پسند تنظیم کے خلاف جنگ میں ایک اہم قدم ہے۔

ادھر عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے سنہ 2016 میں ملک کے مختلف علاقوں پر قابض شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو ’مکمل شکست‘ دینے کی امید ظاہر کی ہے۔

عراقی فوج کا رمادی کو ’آزاد‘ کروانے کا دعویٰ

عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

رمادی پر دولت اسلامیہ کی گرفت کمزور، عراقی افواج کی پش قدمی

صوبہ انبار کے شہر رمادی کا کنٹرول عراقی افواج کے ہاتھ آنے کے بعد پیر کی شب صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایش کارٹر نے رمادی سے دولتِ اسلامیہ کی پسپائی کو اس گروہ کو شکست دینے کی مہم کے سلسلے میں اہم سنگِ میل قرار دیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب ضروری ہے کہ عراقی حکومت رمادی میں امن برقرار رکھے، دولتِ اسلامیہ کو واپس نہ آنے دے اور شہریوں کو واپس اپنے گھروں کو لوٹنے میں مدد دے۔

دارالحکومت بغداد کے مغرب میں واقع سنّی اکثریتی شہر رمادی پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں نے رواں برس مئی میں قبضہ کیا تھا اور اسے عراقی فوج کی شرمناک شکست سے تعبیر کیا گیا تھا۔

اس سے قبل پیر کو سرکاری ٹیلی ویثرن پر عوام سے خطاب میں عراقی وزیراعظم نے کہا کہ ’سنہ 2015 آزادی کا سال ہے۔ خدا نے چاہا تو سنہ 2016 اہم ترین کامیابیوں کا سال ہو گا اور حتمیٰ فتح کا سال ہو گا۔ عراقی سرزمین سے دولتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہو جائے گا اور انھیں شکستِ فاش ہو گی۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انھوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں عراقی افواج موصل شہر کو دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے خالی کروائے گی۔

حیدر العبادی نے کہا کہ ’ اب موصل سے اُن کا قبضہ ختم کروایا جائے گا اور ہم اتحاد اور غیر معمولی افراد کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کو مہلک اور حتمی شکست دیں گے۔‘

امریکہ نے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی رمادی میں دولتِ اسلامیہ کو پسپا کرنے پر عراقی افواج کو سراہا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کا کہنا ہے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ عراقی افواج نے بہت ہمت و حوصلے اور بہادریسے مقابلہ کر کے شہر کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔

عراقی حکومت کی افواج جنھیں غیرملکی اتحادی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی کئی ہفتوں سے سنّی اکثریتی آبادی والے اس شہر سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوانے کے لیے کوشاں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نامہ نگار کے مطابق عراقی افواج ابھی بھی شہر کی شدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہے

بی بی سی کے نامہ نگار نے رمادی شہر کا دورہ کیا اور وہاں ہونے والی تباہی کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں مکمل سناٹا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق شہر کے پل ٹوٹ چکے ہیں اور شہر کی یونیورسٹی کی عمارتیں مکمل اور جزوی طور پر متاثر ہوئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ سڑکوں پر پڑے ملبے کے ڈھیر اور عمارتوں میں کوئی بھی شخص داخل ہونے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ ہر جگہ پر نقصان پہنچانے یا جھانسا دینے والی دھماکہ خیز اشیا کی موجودگی کا شک ہے۔

نامہ نگار کے مطابق عراقی افواج اب بھی شہر کی شدت پسندوں کی تلاش میں مصروف ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ حکومتی فورسز نے رمادی شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

اسی بارے میں