2015 پناہ گزینوں، دولتِ اسلامیہ اور پوتن کا سال

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سال 2015 میں ہزاروں پناہ گزین کشتیوں کے حادثوں میں ہلاک ہو چکے ہیں

سب باتوں سے بڑھ کر یہ سال پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے نام رہا ہے۔ لیکن یہ سال خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم کا بھی رہا ہے۔ اور اِسی دوران روس کے صدر پوتن کی بین الاقوامی سیاست میں اہم کھلاڑی کے طور پر واپسی بھی ہوئی ہے۔

میں نے سنہ 2015 کا بیشتر وقت عراق، افغانستان، لیبیا اور روس میں اِنھی تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے گزارا ہے۔

اِس سال ہماری یادوں پر کشتیوں پر سوار تھکے ہارے پناہ گزینوں یا جائے پناہ اور خوشحالی کی تلاش میں گرد آلود سڑکوں پر بھاری قدموں کے ساتھ گامزن مہاجرین کی تصاویر کا غلبہ رہا۔

میں نے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں واقع گرفتار پناہ گزینوں کی جیل کا دورہ کیا۔ گرفتار قیدیوں میں زیادہ تر کی عمریں 20 اور 30 سال کے درمیان تھیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی افریقہ اور پاکستان سے تھا اور یہ کام تلاش کرنے کی کوششوں میں اپنا گھر بار چھوڑ کر یورپ کے سفر پر نکلے تھے۔

اُن کے ساتھ کئی انسانی سمگلر بھی قید تھے جنھیں لیبیا کے حکام نے گرفتار کیا تھا۔ میں نے ایک انسانی سمگلر کا انٹرویو بھی کیا جو ایک کشتی کا منتظم تھا، اور اِس سال کے اوائل میں اُس کی کشتی ڈوبنے کے باعث 700 پناہ گزین ہلاک ہو گئے تھے۔

اور اب وہ سلاخوں کی پیچھے طویل قید کاٹ رہا ہے۔ اُس نے بتایا کہ ’اگر آپ میرے دل میں جھانک سکیں، تو آپ کو یہاں درد اور افسردگی نظر آئے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نئے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی شاندار اور تیز دماغ شخصیت کے مالک ہیں

اِس سال میرا زیادہ تر وقت عراق اور افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کو دیکھنے اور سمجھنے میں گزرا، جہاں امریکہ اور برطانیہ کے چھوڑے گئے نظام کے حوالے سے خطرات میں بدتریج اضافہ ہو رہا ہے۔

مئی میں بغداد کے مغرب میں تقریباً 60 میل دور عراق کے شہر رمادی پر دولت اسلامیہ کا قبضہ اور وحشیانہ طرزعمل والی پالیسی کا مظاہرہ دہشت خیز تھا جس کے تحت وہ قیدیوں کی سر تن سے جدا کررہے تھے۔

بغداد کو لگتا ہے کہ وہ اب تک مکمل محفوظ، لیکن مُضطرب ہے۔ نئے وزیر اعظم حیدر العبادی متاثرکن اور فعال شخصیت کے مالک ہیں۔ میں نے جب رمادی پر قبضے کے فوراً بعد اُن کا اِنٹرویو کیا تو وہ پُراُمید تھے۔

اُنھوں نے کہا: ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، ہم اِسے جلد واپس لے لیں گے۔‘

’کیا ہم مہینوں کی بات کر رہے ہیں؟‘

’نہیں، نہیں، میں اب دنوں کی بات کر رہا ہوں۔‘

’دنوں؟‘

’جی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان اور دولت اسلامیہ دونوں افغانستان میں اپنے قدم جمارہی ہیں

رمادی شہر کے بڑے علاقے کو دولت اسلامیہ سے چھڑا لیا گیا ہے اور حالیہ دنوں میں اہم کامیابیاں بھی سامنے آنے والی ہیں، لیکن اِس وقت تک

قبضے کو سات مہینے بیت چکے ہیں۔

جہادیوں کے اختلافات

میں نے افغانستان کے صوبے ہلمند اور دوسری جگہوں پر طالبان کی پیش قدمی دیکھی ہے۔ مجھے طالبان اور دولت اسلامیہ کے درمیان افغانستان پر

غلبے کی کشمکش نے بار بار حیرت زدہ کیا ہے۔

طالبان دولت اسلامیہ سے لڑنے کے لیے اپنے بہترین جنگجو روانہ کر کے طبلِ جنگ بجا چکے ہیں۔

طالبان کے سینئیر رہنما مانم نیازی نے ستمبر میں مجھے بتایا کہ اُنھیں یقین ہے کہ جو طالبان جنگجو دولت اسلامیہ میں شامل ہوئے ہیں وہ جلد واپس آ جائیں گے۔ اب تک تو یہ نہیں ہو سکا۔

لیبیا میں دو حریف حکومتوں کے درمیان اتحاد پر متفق نہ ہونے کے باعث دولت اسلامیہ کو وہاں قدم جمانے کا موقع ملا ہے۔ ایک حکومت طرابلس میں ہے تو دوسری طبرق میں قائم ہے۔ ابھی تک اِس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ دولت اسلامیہ ملک پر قبضہ کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیوتن میں روس کو دوبارہ سے عالمی طاقت بنانے کا جنون نظر آتا ہے

لیکن سنہ 2011 میں کرنل قذافی کی حکومت کے خاتمے سے ملک میں عدم استحکام کے راستے کھل گئے تھے۔ میں نے جولائی میں طرابلس میں حالتِ انتشار میں چلتے مقدمے دیکھے ہیں، وہاں کرنل قذافی کے نو حامیوں کو سزائے موت اور دیگر قیدیوں کو طویل قید کی سزا سنائی گئی۔

طرابلس پرسکون ہے، لیکن یہاں اغوا برائے تاوان کی شرح بڑھ گئی ہے۔

بااثر پوتن

تقریباً ایک سال قبل میں روس کے صدر پوتن کی سالانہ پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے ماسکو گیا تھا۔ یہ چار گھنٹوں کی کافی پرجوش تقریب

تھی، جس میں صحافی پوتن سے یوکرین کے بارے میں اُن کی پالیسیوں پر سوال کر سکتے تھے۔

میں نے اُن سے وہ سوال پوچھا جو مجھے لگتا تھا کہ روس 2015 میں کرے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔

میرا سوال تھا کہ، کیا پوتن اِس موقعے کا فائدہ اُٹھائیں گے جس میں وہ مغرب کو یہ بتا سکیں کہ وہ نئی سرد جنگ نہیں چاہتے؟ کوئی مغربی رہنما اِس کو استعمال کر کے دلفریبی کو تبدیل کردے، کوئی اور نہیں تو خود ولادی میر پوتن۔

اُنھوں نے سختی سے کہا کہ ’روس ضرور اِس کشیدگی میں اہم کردار ادا کرے گا جو ہم دنیا میں دیکھ رہے ہیں، لیکن صرف اِس احساس کے ساتھ نہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ قوت سے اپنے قومی مفاد کا تحفظ کریں۔ اِن سب کا تعلق ہماری حفاظت، ہماری خودمختاری اور ہماری بقا سے ہے۔

کچھ چیزیں سنہ 2015 میں بھی ہوئیں، ان میں پوتن کا روس کو دوبارہ سے عالمی طاقت بنانے کا جنون نظر آتا ہے۔

یہ واضح ہو چکا ہے کہ سنہ 2014 میں اُنھوں نے کرائمیا پر جو قبضہ کیا تھا وہ اب مستقل ہے۔ میں مارچ میں کرائمیا گیا تھا اور یہ پوری طرح پر

سکون ہے۔

کرائمیا پر عالمی پابندیوں کے باعث روس کے عام شہری کی زندگی مشکلات کا شکار ہے۔ لیکن سنہ 2015 میں روس بین الاقوامی سیاست کے مرکزی دھارے میں واپس آیا ہے۔

میں نے دیکھا کہ اکتوبر میں صدر پوتن نے پیرس میں فرانس، جرمنی، روس اور یوکرین کے درمیان اجلاس کا انتظام عمدہ طریقے سے سنبھالا۔

ویسے تو یہ اجلاس یوکرین کے تنازعے پر تھا، لیکن پوتن نے اِس اجلاس کو شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف حملوں کے لیے مغربی ممالک سے رابطوں کے استعمال کیا۔

یہ ایک شاطرانہ چال تھی۔ لیکن کیا اِس سے دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے میں مدد ملے گی؟ اِس سال دولت اسلامیہ نے عراق، شام، افغانستان، اور لیبیا میں پیش قدمی کی ہے۔

لیکن اس بےترتیب ردعمل کے باوجود مجھے شک ہے کہ مغرب، روس، ایران اور سعودی عرب پر مبنی یہ نیا اور اکثر اوقات آپس ہی میں گتھم گتھا اتحاد 2016 میں دولتِ اسلامیہ کی کامیابیوں پر بند باندھنے میں کامیاب ثابت ہو گا۔

اسی بارے میں