شکاگو میں پولیس اہلکار کا سیاہ فام لڑکے کے قتل سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس اہلکار جیسن وین نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ اُنھوں نے 17 سالہ سیاہ فام لڑکے پر 16 گولیاں نہیں چلائی تھیں

امریکی ریاست شکاگو میں سفید فام پولیس اہلکار نے کہا ہے کہ اُس نے 17 سالہ سیاہ فام لڑکے کو قتل نہیں کیا ہے۔

منگل کو پولیس اہلکار جیسن وین نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر کہا کہ سنہ 2014 میں اُنھوں نے 17 سالہ سیاہ فام لڑکے پر 16 گولیاں نہیں چلائی تھیں

سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرہ، ہوائی اڈے، شاپنگ مال متاثر

یاد رہے کے رواں سال کے آغاز میں انٹرنیٹ پر سیاہ فام لڑکے لیکون میکڈونلڈ پر پولیس کی جانب کی گئی فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد عوام نے احتجاج کیا تھا اور پولیس کے سربراہ سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکہ میں قومی سطح پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بارے میں بحث جاری اور وفاقی سطح پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔

ان تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا پولیس کو طاقت کے استعمال کی جانب راغب کرنے میں نسلی تعصب کا بھی عمل دخل ہے یا نہیں اور پولیس کا کس حد تک احتساب کیا جانا چاہیے۔

17 سالہ سیاہ فام لڑکے کو جب پولیس نے روکا تو اُس کے پاس چاقو تھا لیکن ڈش بورڈ پر نصب کیمرے کی ویڈیو کے مطابق وہ پولیس کے کہنے پر وہ پیچھے ہٹ رہا تھا کہ پولیس اہلکار نے فائرنگ کر دی۔

اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد کئی دن تک مظاہرے ہوئے تھے اور امریکی صدر اوباما نے اسے ’پریشان کن‘ قرار دیا۔

مظاہرین نے شکاگو کے مئیر اور پولیس کے سربراہ سے مستٰفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں