لندن میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی پر مسلمان جوڑا مجرم قرار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption محمد رحمان اور اُن کی اہلیہ ثنا احمد کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر مجرم قرار دیا گیا ہے

برطانیہ میں پولیس نے لندن میں دہشت گردی کی منصوبے بندی کے جرم میں ایک مسلمان جوڑے پر کو قصوروار ٹھہرایا، دونوں میاں بیوی سات جولائی کو لندن بم دھماکوں کے دس سال مکمل ہونے پر دہشت گردی کی مزید کارروائیاں کرنا چاہتے تھے۔

دونوں مجرموں کو سزا بدھ کو سنائی جائے گی۔

برطانیہ: دہشتگردی کے شک میں پندرہ سالہ لڑکی گرفتار

25 سال محمد رحمان نے لندن کی زیر زمین میٹرو اور ایک شاپنگ سینٹر کو نشانے بنانے کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرے کیا تھا اور انھوں نے سوشل میڈیا پر یہ تبصرہ’خاموش بمبار‘ کے نام سے کیا۔

پولیس کو اُن کی رہائیش گاہ سے ایسے کیمیکلز ملے ہیں جو بم بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

محمد رحمان اور اُن کی اہلیہ ثنا احمد کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے پر مجرم قرار دیا گیا ہے اور بدھ کو انھیں سزا سنائی جائے گی۔

محمد رحمان نے رواں سال مئی میں ٹوئٹر پر دہشت گردی سے متعلق ایک آرٹیکل بھی پوسٹ کیا اور لندن میں ممکنہ طور پر نشانے بنانے والی جگہوں پر تجاویز بھی طلب کی تھیں۔

انھوں نے اپنی 24 سالہ بیوی کو رقم فراہم کی اور اپنے مکان میں ایک بڑا بم بنانے کے لیے کیمیکل بھی ذخیرہ کیا۔ مجرموں نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ایک ویڈیو بھی بنائی۔

دہشت گردی کے اس مقدمے کی سماعت کے دوران ججوں نے رحمان کے اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ بھی سنی، جس میں انھوں نے کہا کہ ’اگر پولیس نے تلاشی کے لیے میرے گھر پر چھاپا مارا تو میں اپنے گھر کو سائیڈ ٹیبل پر نصب ایک بٹن کے ذریعے اڑا سکتا ہوں۔ کوئی بھی میری طرح جہاد میں شامل نہیں ہو سکتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Thames Valley Police
Image caption مجرموں نے دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ایک ویڈیو بھی بنائی

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ رحمان نے سوشل میڈیا پر تجاویز طلب کیں کہ کیا لندن میٹرو کو نشانہ بنایا جائے یا ویسٹ فیلڈ شاپنگ سینٹر کو؟

رحمان نے تحقیقات کے دوران بتایا کہ وہ شہادت کی منصوبہ بندی کر رہے تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران بتایا گیا کہ رحمان نے ٹوئٹر پر گھر میں بنائے گئے بم کی تصاویر بھی شائع کیں۔

دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے سے کیمیکل کی خریداری کے بارے میں موبائل پر پیغامات بھجوائے۔

کاؤنٹر ٹیرریزیم یونٹ کے سربراہ نے کہا رحمان نے سوشل میڈیا پر انتہا پسند مواد شائع کیا ہے اور انھوں نے انٹرنیٹ پر متعدد بار جہادی مواد تک رسائی حاصل کی ہے۔انھوں نے دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے بارے میں اپنے اراداے کا اظہار بھی کیا ہے۔

رحمان کے والد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اپنے بیٹے میں شدت پسند سے متعلق کوئی بھی علامات میں دکھائی نہیں دی۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس کی حراست سے قبل رحمان نے کثرت شراب اور سگریٹ نوشی شروع کر دی تھی۔

رحمان کا خاندان سنہ 1980 میں برطانیہ منتقل ہوا تھا۔

اسی بارے میں