یورپ میں سالِ نو کی بیشتر تقریبات منسوخ، برسلز میں گرفتاریاں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئے سال کے موقع پر ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے تعلق کے شبہے میں چھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب دنیا کے بیشتر شہروں میں نئے سال کی تقریبات کے موقعے پر سکیورٹی انتہائی سخت کی گئی ہے۔

یہ گرفتاریاں شہر کے نواح میں چھاپوں کے دوران عمل میں آئیں۔ ان علاقوں میں مولنبیک بھی شامل ہے جہاں پیرس حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی۔

بیلجیئم: نئے سال کے موقعے پر حملے کی منصوبہ بندی پر گرفتاریاں

بیلجیئم میں پولیس کو ’کئی مشتبہ افراد‘ کی تلاش

برسلز میں سال نو کے موقع پر آتش بازی کا پروگرام بھی حملے کے خطرے کے پیشِ نظر منسوخ کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو گرفتار کیے جانے والے چھ افراد کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد سے بیلجیئم میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے

اس ہفتے کے اوائل میں بھی برسلز سے دو افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کے خطرات کے پیش نظر براعظم یورپ کے کئی بڑے شہروں میں سال نو کی تقریبات سے قبل سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔

نومبر میں دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بننے والے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں بھی نئے سال کا استقبالیہ آتش بازی کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔

پیرس کے علاوہ لندن، برلن اور ماسکو جیسے بڑے شہروں میں بھی اس موقع پر دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیلجیئم کے وزیراعظم چارلس میچل نے بدھ کو کہا کہ تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ ’اہم معلومات‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔

برسلز کے میئر نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کو بتایا کہ ’وزیر داخلہ کے ساتھ مل کر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جمعرات کی شام جشن نہ منایا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کے خطرات کے پیش نظر یوروپ کے کئی بڑے شہروں میں سال نو کی تقریبات سے قبل سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں

میئر نے بتایا کہ گذشتہ برس برسلز میں سالِ نو کی تقریبات کے دوران ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے اور ’ان حالات میں ہم ہر کسی کی تلاشی نہیں لے سکتے۔‘

نومبر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد سے بیلجیئم میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

حالیہ دنوں میں بیلجیئم کی پولیس نے کئی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں جن کے دوران فوجی یونیفارم، کمپیوٹر سمیت جدید آلات برآمد کیے گئے۔

نومبر میں پیرس جیسے حملے کے خطرے کے پیش نظر برسلز کو چار دنوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور شہر میں تعلیمی عمل اور میٹرو ریل سروس معطل رہی تھی۔

اس دوران ترکی میں سکیورٹی کے حکام نے دارالحکومت انقرہ میں سال نو کی تقریبات پر دہشت گردانہ حملے کے ایک منصوبے کو ناکام بنانے کا دعوی کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر 60 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں

بدھ کو ترکی کی پولیس نے انقرہ میں سال نو کی تقریبات پر حملے کے شبہے میں دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

سرکاری نیوز ایجنسی اندالو کے مطابق یہ افراد شام کی سرحد سے ترکی میں داخل ہوئے تھے اور بھیڑ والی دو جگہوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

بعد میں پولیس نے چھاپہ مار کر خود کش حملے کی بیلٹ اور دھماکہ خیز مواد بر آمد کیا۔

فرانس میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر 60 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔ پیرس کے میئر این ہیڈالگو کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس نئے سال کو دھوم دھڑکے کے بغیر ایک ایسے انداز میں منانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے جذبات کا عکاس ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ماسکو میں بھی حکام نے ریڈ سکوائر کو پوری طرح سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سال نو کے خیر مقدم کے لیے عام طور پر لوگ نصف شب میں جمع ہوتے ہیں

انھوں نے کہا کہ یہ ’پروقار تقریب‘ دنیا کو پیغام دے گی کہ پیرس اپنے طرز زندگی اور مل جل کر رہنے کی خاصیت پر فخر کرتا ہے۔

حکام نے ان مقامات پر بھی سکیورٹی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں ممکنہ طور پر حملوں کے خطرات سے متعلق کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں۔ ماسکو میں بھی حکام نے ریڈ سکوائر کو پوری طرح سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جہاں سال نو کو خیر مقدم کے لیے عام طور پر لوگ نصف شب میں جمع ہوتے ہیں۔

برلن میں بھی اس موقع پر لوگوں کو بیگ لیے جانے اور آتش بازی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ برینڈن برگ گیٹ کے سامنے فین مائل پر بیگ کی تلاشی لیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس جگہ کو کرسمس کےموقع پر بند کیا گیا تھا اور تب سے تقریبا بند ہی پڑی ہے۔

اسی بارے میں