دولتِ اسلامیہ کی شکشت کے بعد عراقی وزیراعظم کا رمادی کا دورہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراق کے صوبہ انبار کے شہر رمادی کا کنٹرول عراقی افواج کے ہاتھ آنے کے بعد ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی نے رمادی کا دور کیا۔

منگل کو وزیراعظم العبادی ہیلی کوپٹر کے ذریعے رمادی پہنچے اور وہاں موجود فوجی کمانڈرز سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے تباہ شدہ رمادی شہر کا دورہ بھی کیا۔

عراقی فوج کا رمادی کو ’آزاد‘ کروانے کا دعویٰ

عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

رمادی پر دولت اسلامیہ کی گرفت کمزور، عراقی افواج کی پش قدمی

اس سے قبل عراقی وزیراعظم نے کہا تھا کہ سال 2016 شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی شکست کا سال ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اب موصل سے دولتِ اسلامیہ کا قبضے ختم کیا جائے گا۔

رمادی سے اطلاعات ہیں کہ شہر میں مکمل خاموشی ہے لیکن بعض علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔ انجنیئرنگ ٹیم سڑکوں اور عمارتوں کی تلاشی لے کر بموں کو ناکارہ بنا رہی ہیں۔

اس سے قبل امریکہ نے وزیر خارجہ جان کیری نے بھی رمادی میں دولتِ اسلامیہ کو پسپا کرنے پر عراقی افواج کو سراہا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان سٹیو وارن کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکز میں 400 کے قریب شہری محصور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ اس لڑائی میں کتنے عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں رمادی کی فتح کا جشن منایا گیا

یاد رہے کہ عراقی افواج کے ترجمان نے رمادی کو آزاد کروانے کو ’اہم ترین کامیابی‘ قرار دیا تھا۔

عراقی حکام نے شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ہونے والے لڑائی میں ہلاکتوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں لیکن اتحادی افواج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عراقی افواج کی اس لڑائی میں عام شہری کم ہلاک ہوئے ہیں۔

اتحادی افواج کے مطابق ’رمادی ابھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے اور شہر کے دوسرے علاقوں پر بھی لازمی کنٹرول حاصل کیا جانا چاہیے۔عراق کا جھنڈا سرکاری عمارتوں پر لہرا رہا ہے اور اس جنگ میں دشمن کو واضح شکشت ہوئی ہے۔‘

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ رمادی کی لڑائی میں اتحادی افواج کے زمینی دستے شامل نہیں تھے۔‘

عراق کے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں رمادی کی فتح کا جشن منایا گیا۔

اسی بارے میں