فلپائنی پادری اپنے انوکھے انداز پر معطل

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

کیتھولک عیسائیت کے اعلیٰ حکام نے فلپائن سے تعلق رکھنے والے ایک پادری کو معطل کر دیا ہے جنھوں نے ایک چرچ میں منعقد کرسمس کی خصوصی دعائیہ مجلس میں سٹیج اور منبر کی بجائے پہیوں والے تختے (ہوور بورڈ) پر گھومتے پھرتے دعائیہ گیت گائے۔

ابھی تک مذکورہ فلپائنی پادری کا نام منظر عام پر نہیں آیا ہے لیکن ان کی ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیل چکی ہے جس میں فلپائن کے لیگونا صوبے کے چرچ میں بیٹھے ہوئے حاضرین کو ہوور بورڈ پر کھڑے پادری کے دعائیہ گیت پر تالیاں بجاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے فلپائن میں رومن کیتھولک فرقے کے پادریوں کے سب سے بڑے حلقے کا فیس بُک پر کہنا تھا کہ مذکورہ پادری نے جو کیا وہ غلط ہے۔

’انھوں نے ہوور بورڈ پر کھڑے ہو کر نہ صرف حاضرین کو خوش آمدید کہا بلکہ بعد میں اسی بورڈ پر چرچ کے فرش پر گھومتے پھرتے کرسمس کے گیت گائے۔ انھیں اب چرچ سے باہر نکال دیا گیا ہے تاکہ وہ باہر جائیں اور اپنی غلطی پر ’تفکر‘ کریں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’عیشائے ربّانی کی رسم کا تقاضا ہے کہ اس میں انتہائی ادب اور عقیدت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ یہ کلیسا کی سب سے بڑی عبادتوں میں سے ایک عبادت ہے، نہ کہ خوشی کی کوئی ذاتی تقریب۔ ایسی بڑی عبادت میں کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے کچھ بھی کرتا پھرے۔‘

فیس بُک پر شائع ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مذکورہ پادری جانتے ہیں کہ ان کی سرزنش ان کو ’غفلت‘ سے جگانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

انٹرنیٹ پر مذکورہ ویڈیو روایت پسند کیتھولک گروپ ’نووس آرڈونٹو‘ نے بھی شائع کی جس کے بعد بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا، تاہم اس پر مخلف قسم کے تبصرے دیکھنے میں آئے ہیں۔

Image caption کیتھولک آبادی کے لحاظ سے فلپائن دنیا کے بڑے ممالک میں سے ایک ہے

ایک فیس بُک صارف نے لکھا کہ ’یہ حرکت نہ صرف خدائے مقدس کی شان میں گستاخی ہے بلکہ ان تمام بے چاری روحوں کی بھی گستاخی ہے جن کے لیے چرچ میں دعا کی جا رہی تھی۔ اور سونے پر سوہاگھہ یہ کہ پادری کو گانا بھی نہیں آتا۔‘

ایک فلپائنی کیتھولک کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ ’مضحکہ خیز‘ ہے۔ آپ اتنی بڑی دعائیہ مجلس میں بیٹھے کیسے عبادت کر سکتے ہیں جب آپ کے سامنے چرچ میں یہ تماشا ہو رہا ہو۔‘

تاہم کچھ صارفین نے پادری کے حق میں بھی لکھا اور ان کے ’ہلکے پھلکے‘ انداز کو سراہا بھی۔

کینیڈا سے روب ٹرینر کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک دلچسپ ویڈیو ہے اور مجھے اسے دیکھ کر مزا آیا۔ میں خود ایک رومن کیتھولک ہوں، تاہم میں مذہب پر زیادہ عمل نہیں کرتا اور اس قسم کی مذہبی تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت نہیں کرتا۔ لیکن اگر ہمارے ہاں اس قسم کے مزید پادری سامنے آتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ میں بھی دعائیہ تقاریب میں جانا شروع کر دوں۔ اگر لوگ پرانی روایتوں پر زور دیتے رہے تو زیادہ مذہبی کیتھولک بھی چرچ جانا چھوڑ دیں گے۔‘

اسی بارے میں