شکاگو: نسلی تعصب کے واقعات کے بعد پولیس اہلکاروں کی تربیت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی شہر شکاگو کے میئر کا کہنا ہے کہ شہر میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں افریقی نژاد امریکیوں کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کم کرنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے اور انھیں جدید آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔

بدھ کو شکاگو کے میئر نے بتایا کہ شکاگو میں گشت کرنے والی پولیس کی ہر گاڑی میں ٹیزر گن ضرور موجود ہو گی۔

شکاگو میں پولیس اہلکار کا سیاہ فام لڑکے کے قتل سے انکار

سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

امریکہ میں نسلی تعصب کے خلاف مظاہرہ، ہوائی اڈے، شاپنگ مال متاثر

ٹیزر گن کا شمار غیر مہلک ہتھیاور میں ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پولیس کو یہ سیکھنا ہو گا کہ طاقت کا استعمال کس وقت کرنا چاہیے اور کس وقت نہیں۔

یاد رہے کے رواں سال کے آغاز میں انٹرنیٹ پر سیاہ فام لڑکے لیکون میکڈونلڈ پر پولیس کی جانب کی گئی فائرنگ کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد عوام نے احتجاج کیا تھا اور شہر کے میئر پولیس کے سربراہ سے مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

میئر نے کہا کہ ’صرف اس لیے کہ آپ تربیت یافتہ ہیں اور طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں تو اس مطلب یہ نہیں کہ ایسا کرنا بھی چاہیے۔ ایک دوسرے کی مدد کریں اور ٹرینگ بھی بہت ضروری ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ محکمۂ پولیس اہلکاروں کو 1400 ٹیزز گن فراہم کرے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک شکاگو کے 15 فیصد اہلکاروں کو اس بات کی تربیت دی گئی ہے کہ کسی واقع کو تشدد کے بغیر کیسے روکا جا سکتا ہے۔

17 سالہ سیاہ فام لڑکے کو جب پولیس نے روکا تو اُس کے پاس چاقو تھا لیکن ڈیش بورڈ پر نصب کیمرے کی ویڈیو کے مطابق پولیس کے کہنے پر وہ پیچھے ہٹ رہا تھا کہ پولیس اہلکار نے فائرنگ کر دی۔ پولیس اہلکار پر سیاہ فام لڑکے کے قتل کا الزام ہے۔

امریکہ میں قومی سطح پر پولیس کی جانب سے طاقت کے استعمال کے بارے میں بحث جاری ہے۔

ان تحقیقات میں یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کیا پولیس کو طاقت کے استعمال کی جانب راغب کرنے میں نسلی تعصب کا بھی عمل دخل ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں