دبئی کے ہوٹل میں آتشزدگی سے 16 زخمی، تحقیقات جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں حکام کا کہنا ہے کہ نئے سال کے جشن سے قبل 63 منزلہ ہوٹل میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقے میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج الخلیفہ کے قریب واقع 300 میٹر بلند ’دی ایڈریس ہوٹل‘ میں لگی آگ پر کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد مکمل طور پر قابو پایا جا سکا ہے۔

دبئی 2016 کے آغاز پر شاندار آتش بازی اور آگ

آتشزدگی کے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور 16 افراد معمولی زخمی ہوئے۔

تاحال آگ لگنے کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں تحقیقات جاری ہیں۔

یہ آگ جمعرات کی شب برج الخلیفہ پر آتش بازی کے روایتی مظاہرے سے چند گھنٹے قبل بھڑکی تاہم حکام نے اس صورتحال کے باوجود آتش بازی کا پروگرام منسوخ نہیں کیا۔

آگ اتنی شدید تھی کہ اس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ہوٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ہول کے بالائی حصے سے ملبہ گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکام کے مطابق آگ بجھانے کے عملے کی چار ٹیموں نے آگ پر قابو پانے کی کوشش میں حصہ لیا۔

جب آگ لگی تو اس علاقے میں نئے سال کی تقریبات کے سلسلے میں لاکھوں افراد موجود تھے اور آتشزدگی کے بعد ہوٹل کے اردگرد کے علاقے کو خالی کروا لیا گیا تھا۔

ہوٹل میں آگ مقامی وقت کے مطابق رات 9:30 بجے لگے اور دس منٹ کے اندر آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

دبئی کی حکومت نے عربی زبان میں ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ آگ ہوٹل کی 20ویں منزل پر لگی تھی۔ مذکورہ عمارت میں فائیو سٹار ہوٹل کے علاوہ رہائشی اپارٹمنٹس بھی واقع ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں 14 افراد معمولی زخمی ہوئے جبکہ ایک شخص کچھ زیادہ زخمی ہے اور ایک شخص کو دھوئیں اور بھیٹر کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہوٹل میں رہائش پذیر افراد کو متبادل جگہ فراہم کی گئی ہے۔

ایک سیاح میشیل ڈک جو دبئی میں موجود ہیں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’اچانک ہم نے خلیفہ ٹاور اور ہوٹل کے درمیان فضا میں گہرے کالے دھویں کے بادل دیکھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے مزید بتایا کہ ’آگ کے شعلے بلند ہوئے اور اس سے قبل کے ہمیں کچھ سمجھ آتی ایڈریس ہوٹل کی عمارت شعلوں کی لپیٹ میں آچکی تھی۔‘

ایک اور سیاح نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ عمارت سے ملبے کو گرتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ ’آگ لگنے کے بعد برج الخلیفہ میں موجود لاکھوں افراد کو کہیں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے کیونکہ ہم ایک طرح برج الخلیفہ میں آتش بازی کے مظاہرے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

علاقے میں آگ کے باوجود بھی دبئی کے برج الخلیفہ پر سال 2016 کی آمد پر شاندار آتش بازی ہوئی۔

بی بی سی کے مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر سیبیسٹن اوشر کا کہنا ہے کہ آتش بازی کا یہ مظاہر دبئی کا طرہِ امتیاز ہے اور حکام چاہتے ہیں کہ عوام آگ کے بجائے آتش بازی کو دیکھیں۔ آگے سال کو دیکھیں۔

اسی بارے میں