’دولتِ اسلامیہ کے حملے‘ کا خطرہ، میونخ کے سٹیشن بند

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مسلح افواج نے میونخ کے ریلوے سٹیشن کو گھیرے میں لے لیا

جرمنی کے شہر میونخ میں پولیس نے نئے سال کے موقع پر دہشت گردی کے ممکنہ حملے کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ وہ بھیڑ والی جگہوں پر نہ جائیں۔

جرمن حکام نے کہا ہے کہ انھیں ایک ’دوست ملک کے خفیہ ادارے‘ نے بتایا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خودکش بمبار شہر کے دو بڑے ریلوے سٹیشنوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

بیلجیئم: نئے سال کے موقعے پر حملے کی منصوبہ بندی پر گرفتاریاں

بیلجیئم میں پولیس کو ’کئی مشتبہ افراد‘ کی تلاش

پولیس کے مطابق شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن اور پاسنگ ریلوے سٹیشن خالی کروا لیے گئے ہیں اور ان پر کوئی ٹرین نہیں رک رہی۔

حکام کی جانب سے بھیڑ سے دور رہنے کی تنبیہ کے باوجود ہزاروں افراد میونخ کی سڑکوں پر نئے سال کا جشن منانے کے لیے نکلے۔

جرمن وزیر یواخیم ہرمان نے کہا ہے کہ ’میں خوش ہوں کہ اب تک کچھ نہیں ہوا اور امید کرتا ہوں کہ یہ صورت حال ایسی ہی رہے گی۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

انھوں نے بتایا کہ جرمنی کی فیڈرل کریمنل پولیس آفس نے گذشتہ سال کی آخری شام ممکنہ حملوں کی اطلاعات ملنے پر میونخ کی پولیس کو مطلع کیا۔

میونخ پولیس کے سربراہ ہوبرٹس آندرا نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق پانچ سے سات شدت پسند حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد میونخ میں تعینات پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور پولیس کے خصوصی یونٹس بھی شہر میں گشت کر رہے ہیں۔

میونخ کے علاوہ یورپ بھر میں اہم شہروں میں نئے سال کی تقریبات کے موقعے پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

برسلز میں سالِ نو کی تقریبات دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے سبب پہلے ہی منسوخ کر دی گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2015 فرانس کے لیے خوفناک سال رہا: فرانسیسی صدر

بیلجیئم کی حکومت کا کہنا ہے کہ جمعرات کو حراست میں لیے جانے والے تین مشتبہ افراد برسلز میں سالِ نو کی تقریبات کے موقعے پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

نومبر 2015 میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں بھی اس مرتبہ نئے سال پر آتش بازی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا لیکن ہزاروں افراد مشہور سڑک شانزے لیزے پر واقع محرابِ فتح پر جمع ہوئے اور نئے سال کا استقبال کیا۔

پیرس کے میئر این ہیڈالگو کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس نئے سال کو دھوم دھڑکے کے بغیر ایک ایسے انداز میں منانے کا فیصلہ کیا جو ہمارے جذبات کا عکاس ہو۔‘

پیرس کے علاوہ فرانس کے دیگر شہروں میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ملک بھر میں ایک لاکھ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

سالِ نو پر قوم سے خطاب میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ ’سال 2015 فرانس کے لیے خوفناک سال تھا۔ جو جنوری میں میگزین شارلی ایبدو پر حملے سے شروع ہوا اور نومبر میں پیرس کے حملوں پر ختم ہوا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دہشت گردی کے ممکنہ حملوں کے خطرات کے پیش نظر یوروپ کے کئی بڑے شہروں میں سال نو کی تقریبات سے قبل سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کو محفوظ بنانے کے لیے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے جاری رکھیں گے۔

صدر اولاند نے کہا کہ فرانس نے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے گڑھ پر فضائی حملے بڑھائے ہیں۔

پیرس کے علاوہ لندن، برلن اور ماسکو جیسے بڑے شہروں میں بھی نئے سال کے موقعے پر دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر اضافی اقدامات کیے گئے۔

حکام نے ان مقامات پر بھی سکیورٹی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں ممکنہ طور پر حملوں کے خطرات سے متعلق کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں۔

ماسکو میں بھی حکام نے ریڈ سکوئر کو پوری طرح سے بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جہاں سال نو کے خیر مقدم کے لیے عام طور پر لوگ نصف شب کے وقت جمع ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر 60 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں

اسی بارے میں